امن و سلامتی امور میں خواتین کی حیثیت مرکزی ہونی چاہیے، وولکر ترک
[ad_1]
ہائی کمشنر نے نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں ‘انٹرنیشنل سول سوسائٹی ایکشن نیٹ ورک’ (آئی سی اے این) کے زیراہتمام ‘خواتین، امن اور سلامتی’ سے متعلق رواں سال کے فورم سے اپنے ویڈیو خطاب میں کہا ہے کہ دنیا بہت بڑے بحرانوں سے گزر رہی ہے اور مسلح تنازعات لاکھوں لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جنگوں میں جنسی زیادتی، اغوا، انسانی سمگلنگ اور جنسی غلامی کا شکار ہونے والوں کی بھاری اکثریت خواتین اور لڑکیوں کی ہوتی ہے۔ 2024 میں جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق اندازاً 67 کروڑ 60 لاکھ خواتین اور لڑکیاں فعال تنازعات سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر رہتی تھیں۔ یہ سرد جنگ کے بعد اب تک ریکارڈ کی جانے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔
وسائل میں کمی، خطرات میں اضافہ
وولکر ترک نے کہا کہ خواتین کے لیے صحت، معاشی وسائل اور تعلیم کے شعبوں میں جتنے کم وسائل مختص کیے جائیں گے ان کے نقصان سے دوچار ہونے کا خطرہ اتنا ہی زیادہ ہو گا۔ نسلی اور لسانی اعتبار سے پسماندہ گروہوں سے تعلق رکھنے والی اور مذہبی یا دیگر بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنے والی خواتین کی صورتحال کہیں زیادہ کمزور ہوتی ہے جنہیں جنسی تشدد سمیت مختلف خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ہائی کمشنر نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ معاشروں کے تحفظ میں خواتین کے اہم کردار اور فیصلہ سازی کے اداروں میں ان کی نمائندگی کے درمیان اب بھی بہت بڑا فرق موجود ہے۔
‘خواتین محض متاثرین نہیں’
خواتین اور لڑکیوں پر جنگوں کے غیر متناسب اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے ہائی کمشنر نے انہیں صرف متاثرین کے طور پر پیش کرنے کے تصور کو مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں خواتین انتہائی سخت اور پرتشدد حالات میں بھی قیادت کر رہی ہیں، منظم ہو رہی ہیں، ثالثی کر رہی ہیں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو دستاویزی شکل دے رہی ہیں۔
انسانی بحرانوں کے دوران عموماً خواتین ہی سب سے پہلے امدادی کارروائیوں کے لیے سامنے آتی ہیں کیونکہ انہیں مقامی حالات اور زمینی حقائق کا ایسا علم ہوتا ہے جو بعض اوقات بین الاقوامی اداروں کے پاس نہیں ہوتا۔
تنازعات کی روک تھام میں خواتین کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کے تحفظ، جوابدہی یقینی بنانے اور امن کے قیام میں موثر کردار ادا کرتی ہیں۔
سلامتی کا تصور
ہائی کمشنر نے کہا کہ ایسے معاشروں میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا جہاں امتیازی سلوک اور جبر ہو۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین کی قیادت میں کام کرنے والی سول سوسائٹی کی تنظیموں کو مکمل شراکت دار سمجھا جائے۔
انہوں نے سلامتی کے مفہوم کو بھی وسیع تر انداز میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مساوات، نفاذ قانون اور احتساب کے لیے غیر جانبدار ادارے، معاشی اور سماجی انصاف، پرامن ثالثی اور ایسا طرز حکومت کسی معاشرے کو زیادہ محفوظ بناتے ہیں جو لوگوں کے انسانی حقوق کو یقینی بنائے۔
حقوق کا تحفظ پائیدار سماجی یکجہتی میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسے معاشرے تشکیل پاتے ہیں جو بحرانوں اور اچانک آنے والے دھچکوں کا مقابلہ کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ منصفانہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ صنفی مساوات کوئی ایسا احسان نہیں جو مرد خواتین پر کر رہے ہیں بلکہ یہ انسانیت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اس سے سب کو فائدہ ہوتا ہے۔
[ad_2]
