بڑھاپے میں بھی آزادی اور وقار یقینی ہونا چاہیے، یو این چیف
[ad_1]
انہوں نے یہ بات یکم اکتوبر کو منائے جانے والے عمر رسیدہ افراد کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہی ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ دنیا میں 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد 1.2 ارب ہے جو 2050 تک بڑھ کر 2.1 ارب ہو جانے کی توقع ہے۔ اس طرح دنیا کی تقریباً 20 فیصد آبادی اس عمر کے افراد پر مشتمل ہو گی۔
سیکرٹری جنرل نے اس رجحان کو عہد حاضر کی ایک بہت بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دنیا کے کئی حصوں میں صحت کی بہتر سہولیات اور مضبوط سماجی تحفظ کا ثبوت ہے۔ تاہم اس تبدیلی سے خطرات اور مواقع دونوں پیدا ہو رہے ہیں جن سے معیشتوں اور معاشروں کی صورتحال تبدیل ہونے لگی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے عمر رسیدہ ہونا عدم تحفظ، معاشرے میں نظرانداز کیے جانے اور ایسے امتیازی سلوک کا سامنا کرنے کے مترادف ہے جو ان کے حقوق اور فلاح و بہبود کو متاثر کرتا ہے۔ تاہم روزگار اور پنشن سے لے کر رہائش، صحت کی سہولتوں اور زندگی بھر سیکھنے کے مواقع تک، موثر پالیسیاں لوگوں کو عمر کی پروا کیے بغیر معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتی ہیں۔
معمر افراد کے حقوق کا تحفظ
بین الاقوامی ماہرین کے ایک آزاد گروپ نے کہا ہے کہ امسال اس دن کا بنیادی موضوع ‘طویل عمری کا دور: لمبی عمر کے لیے نظام زندگی پر ازسرنو غور’ یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ زندگی کے یہ سال افراد، خاندانوں اور برادریوں کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں اور اب جبکہ انسانی زندگی طویل ہو چکی ہے تو اس دوران انسانی حقوق کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ ہر عمر رسیدہ فرد کے حالات مختلف ہوتے ہیں، لیکن انسانی حقوق سب کے لیے یکساں بنیاد پر یقینی بنائے جانا چاہئیں۔ طویل زندگی کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر بنائے جانے والے نظام میں عمر رسیدہ افراد کو مساوی حقوق رکھنے والے انسانوں کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔
ریاستوں کو دیگر اقدامات کے ساتھ ضرورت پڑنے پر ایسی نگہداشت کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے جو افراد کے وقار اور خودمختاری کو برقرار رکھے، انہیں مناسب اور قابل استطاعت طبی سہولتوں، رہائش اور خوراک تک رسائی فراہم کرنی چاہیے، عمر رسیدہ افراد کی جسمانی اور ذہنی صحت و بہبود کا تحفظ ہونا چاہیے اور ان کے لیے اپنی برادریوں میں فعال کردار اور آزادانہ اظہار رائے کا حق یقینی بنانا چاہیے۔
بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت
ماہرین نے عمر رسیدہ افراد کے حقوق سے متعلق ایک بین الاقوامی معاہدے کی تیاری کے لیے جاری کوششوں کی جانب بھی توجہ دلائی ہے جس کی پابندی قانوناً لازم ہو گی۔ یہ معاہدہ عمر رسیدہ افراد کے تحفظ میں طویل عرصہ سے موجود خلا کو دور کرنے اور بڑھاپے میں لاگو ہونے والے حقوق اور ذمہ داریوں کو واضح کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ آغاز سے ہی عمر رسیدہ افراد کو اس معاہدے کی تیاری کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔ بڑھتی عمر، بیماری، جسمانی معذوری یا مدد کی ضرورت کے باعث ان لوگوں کے حقوق کم نہیں ہو جاتے۔ ان کی آواز ایسے فیصلوں میں ضرور شامل ہونی چاہیے جو ان کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔
[ad_2]
