ملتان میں عید میلاد النبی ﷺ کی تیاریاں، 34 مرکزی جلوسوں کا اعلان
میلاد کمیٹیوں کا 70 فیصد جلوس روٹس پر سیوریج کا پانی کھڑا ہونے کا دعویٰ، سیکیورٹی شیڈول جاری نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار
ملتان : عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ملتان میں 34 مرکزی جلوس، 200 سے زائد ذیلی جلوس اور 100 سے زائد دیگر مذہبی پروگرام منعقد کرنے کی تیاریاں جاری ہیں، تاہم میلاد کمیٹیوں کے نمائندوں نے انتظامی اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے روٹس کی فوری مرمت، صفائی اور سیکیورٹی انتظامات مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
میلاد کمیٹی کے نمائندوں کے مطابق شہر میں تقریباً 70 فیصد جلوسوں کے راستوں پر سیوریج کا گندا پانی کھڑا ہے، جبکہ مرکزی جلوسوں کے روٹس پر گردوغبار اور صفائی کی ناقص صورتحال بھی برقرار ہے۔
نمائندوں کا کہنا ہے کہ واسا کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے باعث کئی سڑکیں کھودی گئی ہیں، جس سے جلوسوں کے راستوں پر مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ برس بھی بارش کے دوران جلوسوں کے شرکا کو گندے پانی سے گزرنا پڑا تھا۔
سیکیورٹی شیڈول جاری نہ ہونے پر تشویش
میلاد کمیٹیوں کے نمائندوں نے بتایا کہ بعض ایسے جلوس جو گزشتہ 50 سال سے باقاعدگی سے برآمد ہورہے ہیں، ان کے سیکیورٹی شیڈول تاحال جاری نہیں کیے گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ تھانوں سے مثبت رپورٹس موصول ہونے کے باوجود سیکیورٹی شیڈول جاری کرنے میں تاخیر کی جارہی ہے۔ نمائندوں کے مطابق وہ اس معاملے پر کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور سی پی او سے ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں تاہم انہیں مطلوبہ وقت نہیں مل رہا۔
میلاد کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ تمام متعلقہ افسران کے دفاتر جاکر جلوسوں کے روٹس اور انتظامات سے متعلق مکمل فائلیں پیش کریں گے تاکہ ہر معاملے پر براہِ راست بات کی جاسکے۔
34 مرکزی جلوس اور 200 سے زائد ذیلی جلوس
میلاد کمیٹی کے مطابق اس سال ملتان میں عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر:
- 34 مرکزی جلوس برآمد ہوں گے۔
- 200 سے زائد ذیلی جلوس مرکزی جلوسوں میں شامل ہوں گے۔
- 100 سے زائد دیگر پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جن میں چراغاں، جلسے، محافلِ قوالی، سبیلیں اور لنگر شامل ہیں۔
انتظامیہ سے کیا مطالبات کیے گئے؟
میلاد کمیٹیوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جلوسوں کے تمام روٹس کی فوری مرمت کی جائے اور سیوریج و صفائی کے مسائل حل کیے جائیں۔
نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ جلوسوں کے دوران ٹریفک کی روانی اور شرکا کی حفاظت کے لیے ٹریفک سارجنٹس کی عملی ڈیوٹی لگائی جائے اور جلوس کے راستوں پر ٹریفک کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جائے۔
اس کے علاوہ یکم ربیع الاول سے قبل اسٹریٹ لائٹس کی مرمت اور بحالی مکمل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ رات کے جلوسوں کے لیے مناسب ہنگامی روشنیوں کا انتظام یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
غیر اخلاقی سرگرمیوں پر پابندی کا مطالبہ
میلاد کمیٹی کے نمائندوں نے 12 اور 13 ربیع الاول کی درمیانی شب ہونے والی مبینہ ہوائی فائرنگ، غیر مناسب شوز، بے ہنگم گھوڑا سواری اور کھانے پینے کی اشیا کی بے حرمتی جیسے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایسی سرگرمیوں کا عید میلاد النبی ﷺ کی مذہبی تقریبات سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عید میلاد النبی ﷺ کی تقریبات امن، نظم و ضبط اور مذہبی احترام کے ساتھ منعقد ہوسکیں۔
