پاکستان نے بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ میں 3 تمغے جیت لیے
محمد علی نے طلائی جبکہ محمد عثمان اور سیرت فاطمہ بھٹی نے چاندی کے تمغے حاصل کیے، پاکستان 2027 کے اولمپیاڈ کی میزبانی کرے گا
جدہ : سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والے تیسرے بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ 2026 میں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک طلائی اور 2 چاندی کے تمغے اپنے نام کرلیے۔
بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کا انعقاد 2 سے 8 اگست تک ہوا، جس میں چین، جاپان، روس، ترکی، ملائیشیا، انڈونیشیا اور میزبان سعودی عرب سمیت 19 ممالک کے تقریباً 120 طلبہ اور ماہرین نے شرکت کی۔
پاکستان کی جانب سے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے محمد علی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلائی تمغہ حاصل کیا، جبکہ محمد عثمان اور سیرت فاطمہ بھٹی نے چاندی کے تمغے جیت کر ملک کا نام روشن کیا۔ سید شجاع حیدر نے بھی اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
پاکستان کو 2027 کے اولمپیاڈ کی میزبانی مل گئی
اولمپیاڈ کے دوران پاکستان کے لیے ایک اور اہم اعزاز کا اعلان کیا گیا۔ پاکستان کو 2027 میں ہونے والے چوتھے بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کی میزبانی سونپ دی گئی۔
اس موقع پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے شعبہ تعلیم سے وابستہ ڈاکٹر محمد مقصود اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے ڈاکٹر سجاد طاہر نے پاکستان کے میزبان ملک منتخب ہونے کی یاد میں خصوصی تحفہ وصول کیا۔
نوجوان سائنسی ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی
پاکستانی طلبہ کا انتخاب پاکستان نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کے ذریعے کیا گیا، جو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا پروگرام ہے اور اس کا مقصد ملک کے نوجوان سائنسی ٹیلنٹ کو تلاش کرکے بین الاقوامی سطح کے مقابلوں کے لیے تیار کرنا ہے۔
بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ ثانوی سطح کے طلبہ کے لیے جوہری سائنس سے متعلق ایک اہم عالمی مقابلہ ہے، جس میں نوجوانوں کو جوہری سائنس، ٹیکنالوجی اور اس کے پرامن استعمال سے متعلق اپنی علمی اور عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔
پاکستان کی حالیہ کامیابی کو ملک میں نوجوان سائنسی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی اور جوہری سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی نسل کی دلچسپی بڑھانے کی کوششوں کا اہم نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
