آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال پر پاکستان متحرک، خام تیل کے متبادل ذرائع کی تلاش شروع
اسلام آباد: آبنائے ہرمز کی مبینہ بندش اور بحیرۂ احمر میں باب المندب کے راستے سعودی تیل کی ترسیل سے متعلق پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے بعد پاکستان نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خام تیل کے متبادل درآمدی ذرائع تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔
علاقائی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال نے پاکستان کی توانائی کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے پیش نظر وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی وسائل علی پرویز ملک نے ملک کی مختلف آئل ریفائنریوں کے چیف ایگزیکٹو افسران اور منیجنگ ڈائریکٹرز کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔
اجلاس میں امریکا، ایران اور حوثیوں کے درمیان جاری کشیدگی، سمندری تجارتی راستوں کی صورتحال اور پاکستان کو خام تیل کی مسلسل فراہمی پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر نے ریفائنریوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ملک میں خام تیل کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر متبادل درآمدی ذرائع کی نشاندہی کی جائے اور مختلف عالمی منڈیوں سے سپلائی کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔
اجلاس میں شریک اعلیٰ حکام نے بتایا کہ حکومتی ہدایات کے بعد ملکی ریفائنریوں نے بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں سے رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ امریکا، سنگاپور، نائجیریا اور وسطی ایشیائی ممالک سے خام تیل کی درآمد کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔
حکام کے مطابق حکومت توانائی کے شعبے میں کسی بھی ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف متبادل آپشنز پر کام جاری ہے، تاکہ ملک میں تیل کی فراہمی متاثر نہ ہو اور توانائی کی ضروریات بلا تعطل پوری کی جا سکیں۔
