افغانستان: انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے 1.7 ارب ڈالر درکار

اہم خبریںتازہ تریندنیایو این خبرنامہ

[ad_1]

ملک مں طویل عرصہ سے جاری تنازعات، بگڑتی ہوئی غذائی صورتحال، بار بار آنے والی قدرتی آفات، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور ہمسایہ ممالک سے بڑی تعداد میں مہاجرین کی واپسی نے صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔ اندازوں کے مطابق، آئندہ سال ملک کی 45 فیصد آبادی یا تقریباً 2 کروڑ 19 لاکھ افراد کو کسی نہ کسی طرح کی انسانی امداد درکار ہو گی۔

طلب کردہ وسائل سے ایک کروڑ 75 لاکھ افراد کو مربوط امدادی منصوبے کے تحت ترجیحی بنیاد پر مدد فراہم کی جائے گی جن میں تین چوتھائی سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں۔

شدید غذائی عدم تحفظ

امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ ملک میں خوراک اور صحت و صفائی کی سہولیات فراہم کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی منصوبے کے مطابق 26-2025 کے خشک موسم میں ملک کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی شدید یا اس سے بدتر درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے گھرانے کم از کم غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے بنیادی معاشی وسائل اور اثاثے خرچ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

مسلسل خشک سالی کے باعث کئی علاقوں میں بارانی گندم کی تقریباً 80 فیصد فصل تباہ ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں بہت سے خاندان موسم سرما کے لیے خوراک کے ذخیرے سے محروم رہ گئے ہیں۔

ملک میں صحت و صفائی کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ 2025 میں اندازاً 25 فیصد گھرانے پانی کے غیر معیاری ذرائع پر انحصار کرتے رہے جبکہ 37 فیصد کے پاس بنیادی صفائی کے لیے صابن تک دستیاب نہیں تھا۔ امدادی اقدامات میں ان علاقوں کو ترجیح دی جائے گی جو خشک سالی، ہیضے کی وباؤں، قدرتی آفات اور بڑے پیمانے پر مہاجرین کی واپسی سے متاثر ہوئے ہیں۔

مہاجرین کی واپسی کا بحران

افغانستان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے دنیا کے سب سے بڑے اور تیزی سے بڑھتے ہوئے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ 2025 میں صرف ایران اور پاکستان سے ہی 26 لاکھ سے زیادہ لوگ واپس آئے۔ ان میں بیشتر لوگوں نے ایسے اضلاع میں واپسی اختیار کی ہے جو پہلے ہی غربت، غذائی قلت، خشک سالی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ ان حالات میں مقامی وسائل پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

امدادی شراکت داروں نے آئندہ سال کم وسائل کے باوجود زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کا ہدف رکھا ہے۔ 2026 کے لیے درکار 1.71 ارب ڈالر کے امدادی وسائل 2025 کے مقابلے میں 29 فیصد کم ہیں تاہم ان سے تقریباً 4 فیصد زیادہ افراد کی مدد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

[ad_2]

Source link