بلوچستان: چوری کے شبے میں جرگے کے فیصلے پر 8 افراد کو دہکتے انگاروں پر چلایا گیا
موسیٰ خیل: بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں ایک غیر قانونی جرگے نے دکان سے مبینہ چوری کے الزام میں آٹھ افراد کو دہکتے ہوئے انگاروں پر چلنے پر مجبور کر دیا ہے، جو کہ علاقائی روایات کی ایک فرسودہ اور خطرناک رسم "آگ کی آزمائش” کا حصہ ہے۔ جی خبر ایجنسی اور دیگر ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ 9 دسمبر 2025 کو پیش آیا، جہاں جرگے نے ملزمان کی "بے گناہی” ثابت کرنے کے لیے یہ غیر انسانی سزا سنائی۔ خوش قسمتی سے، ان آٹھوں افراد میں سے کوئی بھی زخمی نہیں ہوا، جو کہ مقامی لوگوں کے مطابق "معجزاتی” قرار دیا جا رہا ہے
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمان کو ننگے پاؤں لال انگاروں کی لائن پر چلنے پر مجبور کیا گیا۔ جرگے کے اراکین نے اسے "اللہ کی طرف سے دی گئی آزمائش” قرار دیا، لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسے "ظالمانہ اور غیر آئینی” قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ یہ رواج بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں صدیوں سے چلا آ رہا ہے، جہاں چوری، جھوٹ یا دیگر الزامات کی تصدیق کے لیے آگ یا گرم لوہے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ماضی میں زیارت (2021) اور ڈیرہ غازی خان (2025) جیسے واقعات بھی اسی نوعیت کے رہے ہیں، جہاں بے گناہ لوگ بدنامی یا ہلاکت کا شکار ہوئے۔
انتظامیہ کا فوری ردعمل
ضلعی انتظامیہ نے اس وحشیانہ عمل کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہے۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل کی ہدایت پر پولیس نے جرگے کے سات اراکین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جن میں سے ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ باقی ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، اور ایس پی موسیٰ خیل نے میڈیا کو بتایا کہ "قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے سخت ایکشن لیا جائے گا، اور جرگہ کلچر کو ختم کرنے کی مہم تیز کی جائے گی۔” انتظامیہ نے متاثرہ افراد کو طبی معائنہ اور قانونی مدد فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر غم و غصہ
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر یہ خبر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جہاں صارفین نے #EndJirgaCulture اور #BalochistanJustice جیسے ہیش ٹیگز استعمال کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں سے مدد طلب کی ہے۔ ایک مقامی صحافتی ادارے "ڈیلی انٹکھاب” کی پوسٹ نے لاکھوں ویوز حاصل کیے ہیں، جہاں لوگ لکھ رہے ہیں کہ "یہ 21ویں صدی ہے، پرانے ظلم کیوں جاری ہیں؟” بلوچستان ہائی کورٹ نے ماضی میں بھی ایسے جرگوں پر پابندی کا حکم دیا ہے، لیکن علاقائی سطح پر نفاذ کی کمی اس قسم کے واقعات کا باعث بن رہی ہے۔
حقوق انسانی کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جرگہ نظام کو مکمل طور پر ختم کیا جائے اور متاثرین کو انصاف دلایا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ واقعہ جرگہ روایات کے خاتمے کی طرف ایک سنگ میل ثابت ہوتا ہے، یا پھر یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
