طالبان رجیم کو پاکستان یا فتنہ الخوارج میں سے کسی ایک کا انتخاب کرناہوگا،بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، اگلی بار جواب زیادہ سخت اور تیز ہوگا: فیلڈ مارشل عاصم منیر
چیف آف دی آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اسلام آباد میں نئے قائم شدہ ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز میں تینوں مسلح افواج (آرمی، نیوی، ایئر فورس) کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے افغان طالبان رجیم کو واضح انتباہ دیا کہ ان کے پاس "فتنۂ الخوارج” (دہشت گرد عناصر جیسے TTP) کی حمایت جاری رکھنے یا پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں سے ایک کا انتخاب کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ یہ بیان پاک-افغان سرحد پر جاری کشیدگی، سرحد پار دہشت گردی اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں سامنے آیا، جہاں فیلڈ مارشل نے زور دیا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے مگر اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کسی سمجھوتے کی اجازت نہیں دے گا۔
-
چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی خود فریبی یا غلط گمان میں مبتلا نہ رہے، اگر دوبارہ جارحیت کی غلطی کی تو پاکستان کا ردعمل پہلے سے بھی زیادہ برق رفتار، بھرپور اور فیصلہ کن ہوگا۔
نئے قائم شدہ ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز میں تینوں مسلح افواج کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بدلتی ہوئی جنگی ضروریات کے پیشِ نظر ملٹی ڈومین آپریشنز کو متحد حکمتِ عملی کے تحت مزید مؤثر بنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز کا قیام پاکستان کی دفاعی تاریخ میں ایک بڑی اور بنیادی تبدیلی ہے، بڑھتے ہوئے خطرات اور جدید جنگی ماحول نے اس سمت میں اقدام کرنا ضروری بنا دیا ہے۔ فیلڈ مارشل کے مطابق ہر سروس اپنی تنظیمی شناخت اور آپریشنل خودمختاری برقرار رکھے گی، جبکہ نیا ہیڈکوارٹرز تینوں افواج کے آپریشنز کو یکجا اور ہم آہنگ کرے گا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں افغان طالبان کے حوالے سے بھی واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت کو دو ٹوک پیغام دے دیا گیا ہے: انہیں خوارج یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے مگر اپنی سرزمین، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حفاظت، اس کی مسلح افواج کے ایمان، حوصلے اور قوم کے متحد عزم کی مرہونِ منت ہے، اور کسی کو بھی اس عزم کو آزمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پس منظر اور اہمیت:
فیلڈ مارشل عاصم منیر، جو مئی 2025 میں پاکستان کے دوسرے فیلڈ مارشل (پہلے محمد ایوب خان) بنے، نے حال ہی میں صدر آصف علی زرداری کی منظوری سے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ سنبھالا ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے انہیں تاحیات استثنیٰ اور وسیع اختیارات دیے گئے، جو ملک کی فوجی اور سیاسی صورتحال کو مزید متاثر کر رہے ہیں۔ یہ بیان پشاور جرگے (اکتوبر 2025) اور حالیہ سرحدی جھڑپوں کے تسلسل میں آتا ہے، جہاں قبائلی عمائدین نے بھی دہشت گردی اور "خوارج” کے نظریے کی مخالفت کی تھی
سوشل میڈیا پر ردعمل:
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر یہ بیان وائرل ہو گیا، جہاں صارفین نے پاکستان کی مضبوط فوجی پالیسی کی حمایت کی۔ مثال کے طور پر، @geonews_urdu نے ہیڈلائن شیئر کی: "طالبان کے پاس خوارج یا پاکستان میں سے کسی ایک کے انتخاب کے علاوہ کوئی آپشن نہیں: فیلڈ مارشل”، جسے سینکڑوں لائکس ملے۔ دیگر صارفین جیسے @HassanAyub82 اور @WatanKiAwaz نے اسے "قومی سلامتی کا اعلان” قرار دیا۔
یہ بیان پاکستان کی "صفر ٹالرنس” دہشت گردی پالیسی اور علاقائی استحکام کی خواہش کو اجاگر کرتا ہے، جو نہ صرف افغان طالبان بلکہ بھارتی عناصر کو بھی وارننگ ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کا عزم ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کو روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا، جبکہ سفارتی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں گی۔
