الیکشن کمیشن کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین تسلیم کرنے سے انکار،پی ٹی آئی کی تنظیمی حیثیت غیر مؤثر

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

اسلام آباد: الیکشن کمیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی تنظیمی حیثیت مزید غیر موثر ہو گئی ہے، یوں پارٹی عملاً سیاسی نقشے سے غائب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

اس سے قبل پی ٹی آئی اپنی رجسٹریشن کے خاتمے کے باعث انتخابی عمل سے باہر ہو چکی تھی۔ حکومتی سطح پر اسے کالعدم قرار دینے پر باضابطہ غور تو نہیں کیا جا رہا تھا، تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے پارٹی قیادت کو ہی تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ اس کی تنظیمی بقا کے تمام راستے محدود کر رہا ہے۔

انتہائی معتبر سیاسی و پارلیمانی ذرائع کے مطابق آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے سینیٹرز نے بھی تحریک انصاف سے نظری و عملی وابستگی سے گریز کرتے ہوئے پارلیمان میں اسے ایوانِ بالا کا سب سے چھوٹا گروپ بنا دیا ہے، جس سے پارٹی کی پارلیمانی موجودگی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

دوسری جانب، اڈیالہ جیل کے اطراف سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ پولیس کے اضافی دستے ہفتے کے آغاز سے ہی تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید نفری طلب کرنے کا پلان بھی تیار ہے۔ حکام کے مطابق اہلکاروں کی اصل تعداد سکیورٹی حکمتِ عملی کے تحت ظاہر نہیں کی جا رہی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ رینجرز کے دستے بھی اڈیالہ جیل پہنچانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور انہیں مکمل طور پر الرٹ رکھا گیا ہے۔ جیل کے گرد تین پرتوں پر مشتمل سخت حفاظتی حصار قائم کر دیا گیا ہے اور پہلے ناکے سے ہی عام افراد کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ صرف وہی افراد اندر جاسکیں گے جن کی فہرست جیل انتظامیہ نے پہلے سے جاری کر رکھی ہے۔

جیل کے اندرونی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے بانی کو پہلے سے فراہم سہولتیں بدستور برقرار ہیں۔ تاہم ان کے ذاتی معالجین یا لاہور کے اسپتال سے کسی میڈیکل ٹیم کو معائنے کے لیے طلب کرنے کی اجازت ملنے کا امکان نہیں، کیوں کہ جیل قواعد اس کی اجازت نہیں دیتے۔

انتظامیہ نے تمام قیدیوں کو واضح کر دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر روزانہ تین مرتبہ جیل کے سرکاری ڈاکٹرز ان کا معائنہ کر سکتے ہیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے ماہر ترین ڈاکٹروں کو بھی ضرورت کی صورت میں طلب کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے جیل ڈاکٹر کی سفارش لازمی شرط ہوگی۔