سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ میں مدت کی ایک اور توسیع کے بعد پاکستان کا توازنِ ادائیگی مستحکم

اہم خبریںپاکستانتازہ تریندنیاکاروبار

اسلام آباد: سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ میں مدت کی ایک اور توسیع کے بعد پاکستان کا توازنِ ادائیگی پہلے سے زیادہ مستحکم ہو گیا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق جاری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر 2025) میں بیرونی ادائیگیوں کا مجموعی حجم نمایاں کمی کے بعد 1 ارب 86 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہ گیا، جب کہ اس سے قبل یہی ادائیگیاں 4 ارب 86 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک متوقع تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سہ ماہی کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر 4 ارب 86 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں ادا کرنا تھیں، جن میں سعودی عرب کا 3 ارب ڈالر کا ڈپازٹ بھی شامل تھا۔ ڈپازٹ کی مدت مزید بڑھنے کے باعث ادائیگی کا یہ بوجھ عارضی طور پر کم ہو گیا۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے اپنے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں 2022، 2023 اور 2024 میں ایک سال کے لیے توسیع دی تھی، جب کہ رواں سال مدت میں تازہ اضافہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی استحکام کے لیے معاون ثابت ہوگا۔