چناب، راوی اور ستلج میں اگلے 48 گھنٹوں میں بڑے سیلاب کا خدشہ، انخلا کیلئے رینجرز، فوج اور پولیس طلب ، عملے کی چھٹیاں منسوخ

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

لاہور/چشتیاں :پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ چناب، راوی اور ستلج میں آئندہ 48 گھنٹوں میں اونچے سے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔

مون سون بارشوں کے نئے اسپیل سے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہورہی ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 95 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے جو انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے زمرے میں آتا ہے۔ ہیڈ سلیمانکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد ایک لاکھ چار ہزار اور اخراج 98 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

چشتیاں میں بھی پانی کی سطح ایک لاکھ چار ہزار چھ سو چونسٹھ کیوسک تک جا پہنچی ہے، جس کے نتیجے میں کئی حفاظتی بند ٹوٹ گئے۔ بستی تگاں سمیت دس سے زائد موضع جات زیر آب آچکے ہیں اور متاثرہ دیہات میں زمینی کٹاؤ سے درجنوں مکانات دریا برد ہوگئے۔

دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 90 ہزار کیوسک ہے جو درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جبکہ شاہدرہ کے مقام پر 40 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر پانی کی آمد 91 ہزار اور اخراج 84 ہزار کیوسک نوٹ کیا گیا ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں بھی فلیش فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

بھارت نے پاکستان کو سیلابی صورتحال کے حوالے سے ایک اور مراسلہ بھیجا ہے۔ انڈس واٹر کمشنر کے مطابق اطلاعات سفارتی ذرائع کے ذریعے موصول ہوئیں، جن میں بتایا گیا کہ ستلج میں ہریک اور فیروز پور جبکہ جموں میں دریائے توی میں سیلاب کے خطرات ہیں۔ چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز اور 27 متعلقہ اداروں کو ہدایت نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔

پاکستان میں سیلاب: دس دنوں میں 400 افراد ہلاک، یو این کی 6 لاکھ ڈالر امداد

ضلعی انتظامیہ نے صورتحال کے پیش نظر رینجرز، فوج اور پولیس کی مدد طلب کرلی ہے، عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں فوری انخلا کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔