بھارت کی وارننگ کے بعد پنجاب کے دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

انڈین ہائی کمیشن کی جانب سے دریائے توی میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری ہونے کے بعد دریائے چناب کے مرالہ مقام پر بھی سیلابی صورتحال کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے پنجاب کے شمال اور شمال مشرقی اضلاع میں فلیش فلڈنگ کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب میں آنے والا سیلابی ریلا گجرات اور سیالکوٹ کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ ملحقہ ندی نالوں میں بھی پانی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کی وجہ سے بہاولنگر میں دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے، جس سے سیکڑوں ایکڑ اراضی میں فصلیں تباہ اور کچھ آبادیوں میں پانی داخل ہو رہا ہے۔

صوبے بھر میں مون سون بارشوں کا آٹھواں اسپیل شروع ہو گیا ہے، جس کے باعث گجرات میں 126، گوجرانوالہ 75، سیالکوٹ 70، مری 58، جہلم 62، اور چکوال میں 31 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ لاہور، ڈیرہ غازی خان، منگلا، شیخوپورہ، سرگودھا، اٹک، فیصل آباد، میانوالی، ٹوبہ ٹیک سنگھ، شورکوٹ اور ساہیوال میں بھی بارشیں ہوئی ہیں۔ مون سون بارشیں 27 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا، مختلف مقامات پر سیلابی صورتحال

دریائے سندھ کے تربیلا مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے، جبکہ کالاباغ، چشمہ اور تونسہ میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا خطرہ ہے۔ تربیلا ڈیم 100 فیصد اور منگلا ڈیم 75 فیصد تک بھر چکے ہیں، جبکہ بھارتی ڈیمز بھاکڑا اسی، پونگ ستاسی اور تھین پچاسی فیصد تک بھر گئے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مون سون بارشوں کے باوجود پنجاب میں کسی جانی یا مالی نقصان کی رپورٹ نہیں ملی۔