ملائیشیا، مسلمان مردوں کو جمعہ کی نماز چھوڑنے پر جرمانہ ہوگا
ملائیشیا کی ریاست ترنگگانو میں مسلمان مردوں کے لیے جمعہ کی نماز چھوڑنا اب قابل سزا جرم شمار ہوگا۔ ریاستی حکام کے مطابق، جو افراد بغیر کسی جائز وجہ کے جمعہ کی نماز نہیں پڑھیں گے، انہیں دو سال تک قید، تین ہزار رنگٹ (تقریباً دو لاکھ پاکستانی روپے) جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
یہ اعلان ریاست کے شریعت کرمنل آفینسز ایکٹ کے تحت کیا گیا، جس کے تحت ایک بار بھی جمعہ چھوڑنے پر کارروائی کی جا سکتی ہے، جبکہ اس سے پہلے تین مسلسل جمعے قضا کرنے پر سزا دی جاتی تھی۔
"جمعے کی نماز نہ صرف عبادت بلکہ اطاعت کی علامت ہے”
ریاستی ایگزیکٹو کونسل کے رکن محمد خلیل عبدالہادی نے واضح کیا کہ:”یہ قانون اس وقت لاگو ہوگا جب فرد کو یاد دہانی کے باوجود جمعہ کی نماز ترک کرنے پر اصرار ہو۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ مساجد میں بینرز آویزاں کیے جائیں گے تاکہ عوام کو نماز کی اہمیت یاد دلائی جا سکے، اور قانون کے بارے میں آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی۔
نفاذ کی نگرانی اور سزاؤں کا عمل
ریاستی حکام کے مطابق، اس قانون کی نگرانی عوامی شکایات اور نفاذی گشتوں کے ذریعے کی جائے گی۔
یہ اقدام ملائیشیا میں اسلامی قوانین کی سخت تشریح نافذ کرنے کی پی اے ایس (پان ملائیشین اسلامی پارٹی) کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے، جو ملک کی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی جماعت اور چار ریاستوں میں حکومتی پارٹی ہے۔
گزشتہ نومبر میں جوہور ریاست نے بھی ایسے اقدامات کا عندیہ دیا تھا۔
فروری 2024 میں ملائیشیا کی اعلیٰ عدالت نے درجنوں شریعت قوانین کو کالعدم قرار دیا تھا، جس پر اسلام پسند جماعتوں نے سخت ردعمل دیا۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ کئی موضوعات وفاقی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جس پر پی اے ایس نے مظاہرے کیے اور شریعت کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
