ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی کے تحت ہزاروں طلبہ متاثر، 6 ہزار سے زائد ویزے منسوخ

پاکستانتازہ تریندنیا

امریکا نے امیگریشن پالیسی مزید سخت کرتے ہوئے رواں سال 6 ہزار سے زیادہ غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کردیے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق زیادہ تر ویزے قانون شکنی اور قیام کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی ملک میں رہائش اختیار کرنے پر منسوخ کیے گئے، جب کہ بعض کیسز میں دہشت گردی کی حمایت اور مجرمانہ سرگرمیوں کو بھی بنیاد بنایا گیا۔

عہدیداروں نے بتایا کہ تقریباً 4 ہزار ویزے ایسے طلبہ کے منسوخ کیے گئے جن پر مختلف نوعیت کے جرائم کا الزام تھا، جن میں حملے، شراب اور منشیات کے زیرِ اثر ڈرائیونگ اور چوری شامل ہیں۔ مزید یہ کہ 200 سے 300 طلبہ کے ویزے دہشت گردی سے متعلق خدشات کے باعث ختم کیے گئے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ "ہم نے سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ویزے منسوخ کیے ہیں کیونکہ کچھ افراد ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے جو امریکی خارجہ پالیسی کے مقاصد اور قومی سلامتی کے خلاف تھیں۔”

ادھر ناقدین نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ کے ویزے منسوخ کرنا اور ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی سخت جانچ کرنا امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں دی گئی آزادی اظہار کے حقوق پر قدغن ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور یوکرین کے صدر کی ملاقات میں کیا ہوا؟

خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سفارت کاروں کو بھی ہدایت دی ہے کہ بیرونِ ملک ایسے درخواست گزاروں پر کڑی نظر رکھی جائے جو امریکا مخالف یا سیاسی نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔