وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور یوکرین کے صدر کی ملاقات میں کیا ہوا؟
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات ہوئی، جس کا مقصد روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھانا تھا۔ ملاقات کے موقع پر متعدد یورپی رہنما بھی واشنگٹن میں موجود تھے، تاہم تاحال کسی واضح امن معاہدے یا جنگ بندی پر اتفاق سامنے نہیں آیا۔
الاسکا ملاقات کے بعد کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں
ملاقات سے چند روز قبل الاسکا میں ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی ملاقات بھی ہوئی تھی، لیکن دونوں رہنماؤں کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق نہ ہو سکا۔
وائٹ ہاؤس ملاقات کے بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر انکشاف کیا کہ انہوں نے پوتن کو فون کیا اور پوتن، زیلینسکی اور خود ٹرمپ کے درمیان ایک سہ فریقی ملاقات کی تجویز پیش کی، جس کا مقام طے ہونا باقی ہے۔
روسی صدر کے مشیر یوری یشاکوو نے تصدیق کی کہ ٹرمپ اور پوتن کے درمیان سوموار کو تقریباً 40 منٹ طویل گفتگو ہوئی۔
"وہ میرے ساتھ ڈیل کرنا چاہتا ہے” — ٹرمپ کا بیان
ملاقات کے دوران ایک مائیک پر ٹرمپ اور فرانسیسی صدر ایمانویل میخواں کی گفتگو ریکارڈ ہو گئی، جس میں ٹرمپ نے کہا:
"میرا خیال ہے کہ وہ ڈیل کرنا چاہتا ہے۔ وہ میرے ساتھ ڈیل کرنا چاہتا ہے۔”
ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا اشارہ پوتن کی جانب تھا۔
کیا زیلینسکی اور پوتن کی ملاقات ممکن ہے؟
روس کے حملے (فروری 2022) کے بعد سے پوتن اور زیلینسکی کی ملاقات ممکن نہیں ہو سکی۔ یوکرین کی جانب سے بارہا کوششوں کے باوجود ماسکو نے دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے تصور کو مسترد کیا ہے۔
کریملن کے مطابق، بات چیت کا لیول بڑھانے پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن براہِ راست ملاقات پر کوئی حتمی بات نہیں کی گئی۔
سکیورٹی کی ضمانت پر امریکہ کا مبہم مؤقف
ٹرمپ نے زیلینسکی کو یہ یقین دہانی کروائی کہ اگر جنگ کا خاتمہ ہوتا ہے تو امریکہ یوکرین کی سکیورٹی کی ضمانت دینے میں مدد کرے گا۔ تاہم، انہوں نے اس مدد کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی۔
جب ان سے امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے امکان پر سوال کیا گیا تو انہوں نے نہ اثبات میں جواب دیا نہ انکار کیا، صرف اتنا کہا:
"یورپ دفاع کی پہلی لائن ہے، لیکن ہم ان کے ساتھ ہوں گے۔ ہم انھیں اچھا تحفظ فراہم کریں گے۔”
90 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ؟
زیلینسکی نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ سکیورٹی گارنٹی میں 90 ارب ڈالر مالیت کے امریکی اسلحے کا معاہدہ بھی شامل ہے۔ اس معاہدے میں جدید ترین ایوی ایشن سسٹمز، اینٹی میزائل ڈیفنس اور دیگر خفیہ ساز و سامان شامل ہو گا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ، یوکرین سے ڈرونز بھی خریدے گا جس سے یوکرینی دفاعی صنعت کو تقویت ملے گی۔
زیلینسکی کے مطابق، سکیورٹی گارنٹی سے متعلق حتمی تفصیلات اگلے 10 دن میں طے ہو جائیں گی۔
یوکرینی صدر جنگ ختم کرنے کے لیے کریمیا اور نیٹو کی خواہش ترک کریں:امریکی صدر
زیلینسکی کا نیا انداز اور ’شکریہ‘ کی بارش
فروری میں ہونے والی ملاقات کی تلخی کے بعد اس بار زیلینسکی نے نرم لہجہ اپنایا۔
انہوں نے ملاقات کے ابتدائی لمحات میں چھ مرتبہ "شکریہ” ادا کیا اور پہلی بار فوجی لباس کے بجائے سوٹ زیب تن کیا، جو سفارتی تبدیلی کا واضح اشارہ تھا۔
ٹرمپ کو اپنی اہلیہ کے لیے ایک خط بھی پیش کیا، جسے انہوں نے ذاتی طور پر خاتون اول کے لیے بتایا۔
یورپ کا کردار اور خدشات
یورپی رہنماؤں نے ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف کی، تاہم ساتھ ہی روس کی ممکنہ جارحیت پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔
-
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے جنگ بندی کے بغیر مذاکرات کو ناممکن قرار دیا۔
-
اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے کہا کہ "اس بار روس کی پالیسی میں تبدیلی نظر آ رہی ہے، شاید ٹرمپ کی وجہ سے”۔
-
فرانسیسی صدر میخواں نے واضح کیا کہ جب ہم یوکرین کی سکیورٹی کی بات کرتے ہیں تو "ہم پورے یورپ کی حفاظت” کی بھی بات کر رہے ہوتے ہیں۔
ایک غیر متوقع اور دلچسپ واقعہ بھی پیش آیا: صدر ٹرمپ نے زیلینسکی کو ایک ہاتھ سے کھینچا گیا ’نقشہ‘ تحفے میں دیا۔
ٹرمپ کا متنازعہ ’نقشہ‘: جنگی حل یا سیاسی اشارہ؟
اس ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے زیلینسکی کو ایک پرنٹ شدہ نقشہ دیا جس پر سرخ مارکر سے لائنز کھینچی گئی تھیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ
"یہ وہ نقشہ ہے جہاں جنگ ختم ہونی چاہیے۔”
یعنی بظاہر وہ نقشہ ان علاقوں کی نشاندہی کرتا تھا جنہیں ٹرمپ کے خیال میں یوکرین اور روس کے درمیان حتمی سرحد تصور کیا جا سکتا ہے۔تاہم یہ نقشہ نہ صرف زیلینسکی بلکہ یورپی رہنماؤں کے لیے بھی حیران کن تھا۔
ایک یورپی سفارتی ذریعے کے مطابق:
"یہ نقشہ کسی سرکاری ادارے یا دفاعی تجزیہ کار کا تیار کردہ نہیں تھا، بلکہ صدر ٹرمپ کی ذاتی رائے کو ظاہر کرتا تھا۔”
زیلینسکی نے اس نقشے پر کسی تبصرے سے گریز کیا، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیر رسمی اشارہ ہے کہ ٹرمپ روس کو کچھ یوکرینی علاقے چھوڑنے پر مجبور کرنے کے بجائے ممکنہ علاقائی تقسیم کے حل پر غور کر رہے ہیں۔
یورپی ردعمل: تقسیم قبول نہیں
فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بعد میں گفتگو میں واضح کیا کہ کسی قسم کی سرحدی تبدیلی یا "زمین کے بدلے امن” کے تصور کو یورپ قبول نہیں کرے گا۔
ایک سینئر یورپی اہلکار کے مطابق:
"امن کا مطلب یہ نہیں کہ یوکرین اپنی زمین قربان کرے۔”
زیلینسکی کا ردعمل: خاموش سفارت کاری؟
صدر زیلینسکی نے اس نقشے پر براہِ راست کچھ نہیں کہا، لیکن صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ:
"ہم ہر وہ تجویز سننے کے لیے تیار ہیں جو ہماری خودمختاری اور قومی سلامتی کا احترام کرتی ہو۔”
مبصرین کے مطابق یہ بیان اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ زیلینسکی ابھی بھی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں تاکہ سفارتی دروازے بند نہ ہوں۔
