امریکہ نے 6000 طلبا کے ویزے منسوخ کر دیئے

اہم خبریںدنیا

امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی قانون کی خلاف ورزی اور مقررہ مدت سے زیادہ قیام کی وجہ سے 6,000 سے زائد بین الاقوامی طلبا کے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن اور غیر ملکی طلبہ پر کریک ڈاؤن تیز کیا جا رہا ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ویزا منسوخی کی وجوہات میں قانون شکنی، غیر قانونی قیام، اور بعض کیسز میں دہشت گرد تنظیموں سے مبینہ وابستگی یا حمایت شامل ہیں۔

زیادہ تر کیسز میں قانون کی خلاف ورزی اہم وجہ

اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق:

  • تقریباً 4,000 طلبہ کے ویزے طویل غیر قانونی قیام یا قانونی خلاف ورزیوں (جیسے چوری، نشے کی حالت میں ڈرائیونگ، یا پرتشدد جرائم) کی وجہ سے منسوخ کیے گئے۔

  • جبکہ 200 سے 300 ویزے ایسے طلبہ کے منسوخ کیے گئے جن پر دہشت گردی سے وابستگی یا حمایت کا شبہ تھا۔

فلسطینی حمایت پر بھی کڑی نظر؟

اگرچہ امریکی محکمہ خارجہ نے "دہشت گردی کی حمایت” کی تعریف واضح نہیں کی، لیکن رپورٹ کے مطابق بعض طالب علموں کو فلسطین کی حمایت میں مظاہروں میں شرکت کرنے پر نشانہ بنایا گیا۔ انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ ان مظاہروں میں بعض افراد نے یہود مخالف بیانات دیے، جس کی بنیاد پر ان کے ویزے منسوخ کیے گئے۔

سوشل میڈیا بھی نگرانی میں

ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے تحت ویزا درخواست دہندگان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور سرگرمیوں کی بھی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 20 مئی کو ایک بریفنگ میں کہا: "شاید ہمیں ابھی مزید کام کرنا پڑے گا۔ ہم ان تمام افراد کے ویزے منسوخ کرتے رہیں گے جو ہماری یونیورسٹیوں میں خلل ڈال رہے ہیں۔”

فلسطینیوں کی حمایت “جرم” قرار، امریکا نے غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے

امریکی جامعات میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد میں اضافہ

غیر ملکی طالب علموں کی نگرانی کرنے والی تنظیم اوپن ڈورز کے مطابق، تعلیمی سال 2023-24 کے دوران امریکہ کی جامعات میں 210 سے زائد ممالک سے 11 لاکھ سے زائد بین الاقوامی طلبہ زیر تعلیم تھے۔

ان اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ طلبہ کی مجموعی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے، لیکن موجودہ پالیسیوں نے غیر ملکی طلبہ میں غیر یقینی کی فضا کو بھی جنم دیا ہے۔