ایپل سام سنگ کے مقابلے میں ڈیزائن اور جدت میں پیچھے، مارکیٹ شیئر کھونے کا خطرہ

سائنس ٹیکنالوجی

دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل اپنے اسمارٹ فون صارفین کو متاثر کرنے میں پیچھے رہ گئی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں کمپنی کی جانب سے نئے ڈیزائن یا جدت نہ لانے کی وجہ سے صارفین پرانے آئی فون ماڈلز پر ہی انحصار کر رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ استعمال ہونے والا فون اب بھی آئی فون 13 ہے، جو 2021 میں متعارف کرایا گیا تھا اور ایپل کے تمام استعمال شدہ اسمارٹ فونز کا 16.3 فیصد حصہ رکھتا ہے۔

اس دوران سام سنگ نے عالمی اور امریکی مارکیٹ میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سب کو حیران کر دیا ہے۔ کمپنی کے فولڈ ایبل اور فلیپ فونز، جیسے گلیکسی زیڈ فولڈ 7 اور گلیکسی فلیپ 7، صارفین میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کی دوسری سہ ماہی میں ایپل کی اسمارٹ فون شپمنٹس 44.8 ملین یونٹس تک محدود رہیں، یعنی 2 فیصد کمی ہوئی، جبکہ سام سنگ کی شپمنٹس 7 فیصد بڑھ کر 57.5 ملین یونٹس تک پہنچ گئیں۔

ریسرچ فرم اویمڈیا کے مطابق دنیا کے تین بڑے اسمارٹ فون برانڈز میں سام سنگ 20 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ پہلے نمبر پر، ایپل 16 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر، اور شیاومی 15 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

آئی فون 17 پرو میکس کے ساتھ ایپل ایک بڑا دھماکہ کرنے جا رہا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ سام سنگ کو نہ صرف ڈیزائن میں برتری حاصل ہے بلکہ مختلف قیمتوں پر وسیع رینج میں فونز فراہم کر رہا ہے، جس میں مقبول گلیکسی اے سیریز بھی شامل ہے۔ مزید برآں، ایپل مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں بھی پیچھے رہ گیا ہے، جبکہ گوگل جیمینی (Gemini) اور سام سنگ کے اینڈرائیڈ فونز جدید AI ٹولز کے ذریعے آگے نکل چکے ہیں۔