حکومت اور تحریک انصاف میں مذاکرات کے امکانات بڑھ گئے

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

اسلام آباد : پس پردہ رابطوں کے بعد حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے امکانات واضح ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق دونوں فریقوں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور بات چیت کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے زیادہ تر ارکان پارلیمنٹ، جن میں کچھ سزا یافتہ رہنما بھی شامل ہیں، باضابطہ مذاکرات کے حق میں ہیں۔ تاہم، پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان فی الحال حکومتی نمائندوں سے براہِ راست بات کرنے پر آمادہ نہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف پہلے بھی کئی بار مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو بامعنی بات چیت کے لیے ماحول سازگار بنانے کا ٹاسک دیا گیا ہے، لیکن خدشہ ہے کہ عمران خان اس عمل کو روک سکتے ہیں۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے پی ٹی آئی ارکان گروپ کی صورت میں جیل میں عمران خان سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ انہیں مؤقف بدلنے پر قائل کیا جا سکے۔

کچھ ارکان کا الزام ہے کہ غیر منتخب افراد عمران خان کو گمراہ کر رہے ہیں اور انہیں اجتماعی استعفوں یا ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ اس پالیسی سے کئی حلقے سیاسی حریفوں کے حوالے ہو سکتے ہیں، جس پر پارٹی کے اندر اختلافات ہیں۔

تحریک انصاف کی مذاکرات ٹرین چھوٹ چکی، وزیراعظم کی پیشکش کا فائدہ اٹھائے، عرفان صدیقی

مذاکرات کے حامی سمجھتے ہیں کہ سینئر رہنما شاہ محمود قریشی اس عمل میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، جو پہلے ہی 9 مئی کے تین مقدمات میں بری ہو چکے ہیں اور دیگر کیسز میں بھی جلد ضمانت ملنے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر ایاز صادق کی حالیہ پیشکش کئی دن کے خاموش رابطوں کے بعد سامنے آئی ہے، اور پی ٹی آئی کے بڑھتے ہوئے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ محاذ آرائی اور احتجاج نے مسائل کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیے ہیں۔