سپریم کورٹ کا عمران خان کی ضمانت اپیلوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس

تازہ ترین

سپریم کورٹ آف پاکستان نے منگل کو پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی مئی 9 کے مقدمات میں ضمانت کی آٹھ اپیلوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یہ اپیلیں لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں جس میں ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کی گئی تھیں۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ افریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی اور پنجاب حکومت کو ہدایت دی کہ وہ قانونی سوالات پر دلائل تیار کرکے آئندہ سماعت میں پیش کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس موقع پر کسی ایسے فیصلے یا تبصرے سے گریز کرے گی جو کسی فریق کے کیس پر منفی اثر ڈال سکتا ہو۔

سماعت اگلی بار 19 اگست کو ہوگی۔ عدالت نے اس وقت مقدمے کی قانونی نوعیت اور ثبوتوں پر کوئی رائے قائم کرنے سے اجتناب کیا اور کہا کہ بحث کو آئندہ سماعت تک ملتوی کیا جاتا ہے تاکہ دونوں فریقین کو مکمل تیاری کا موقع مل سکے۔

9 مئی مقدمات کا فیصلہ: شاہ محمود قریشی بری، یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری کو 10 سال قید

یہ مقدمات مئی 9 کو ہونے والے واقعات سے متعلق ہیں جن میں عمران خان پر مختلف سیکشنز کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں، اور ان کی ضمانت کی درخواستیں لاہور ہائی کورٹ نے مسترد کی تھیں۔ عمران خان نے سپریم کورٹ میں ان فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کی ہے، جس پر اب سنجیدہ سماعت جاری ہے۔

خلاصہ یہ کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کی ضمانت کی اپیلوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت اگلے ہفتے کیلئے ملتوی کر دی ہے، اور قانونی دلائل کی تیاری کے لیے وقت دیا ہے تاکہ مقدمے کی مزید سماعت کی جا سکے.