ٹرمپ اور مودی میں تعلقات کیوں بگڑے؟، نئے انکشافات

اہم خبریںدنیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان تعلقات میں واضح سردمہری آ چکی ہے، اور اب ایک نامور امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز نے اس بگاڑ کی ممکنہ وجوہات کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی کے بعد پاکستان کو بھارت کے برابر کھڑا کر کے ایک ایسی سفارتی تبدیلی کی بنیاد رکھی، جس نے بھارت کو اپنی عالمی حیثیت کی اصل کمزوریوں سے روشناس کرایا۔

 مودی کی سیاسی مشکلات میں اضافہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی تنازعات ان کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے سے مودی حکومت کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

 پاکستان کو سفارتی برتری

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تناؤ کے دوران پاکستان، جنوبی ایشیا کا واحد ملک رہا جس کا امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ خوش اسلوبی سے طے پایا۔
ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ لیتے ہوئے خود کو ثالثی کا اہم کردار قرار دیا، جسے پاکستان نے سراہتے ہوئے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا۔

دوسری طرف، بھارت نے امریکی صدر کے اس دعوے کو مسترد کیا اور بارہا سفارتی سطح پر اس کی تردید کی — تجزیہ کاروں کے مطابق یہی تلخی ذاتی رنجش میں تبدیل ہو گئی۔

فون کال، مودی کا ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی قبول کرنے سے انکار

 بھارت کا روس کی طرف جھکاؤ

ٹرمپ کی ناراضی کی ایک اور وجہ بھارت کا روسی تیل کی خریداری جاری رکھنا بھی ہے۔
امریکی صدر واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ جب تک بھارت روس سے تیل خریدتا رہے گا، اس وقت تک دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری ممکن نہیں۔

رپورٹ کے مطابق، نریندر مودی نے حالیہ دنوں میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے باہمی تجارتی اور سیاسی تعلقات کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

 مودی کا چین اور برازیل سے قربت بڑھانا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ کے لیے ریڈ کارپٹ استقبال اور برازیلی صدر لولا ڈی سلوا سے دوستانہ گفتگو بھی ٹرمپ کے لیے باعثِ ناراضی بنی۔

یہ تمام اقدامات امریکا مخالف اتحاد کی جانب اشارہ سمجھے جا رہے ہیں، جو مودی اور ٹرمپ کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کی ایک اور وجہ بنے۔

 "اے آئی” اتحاد سے "ذاتی ناراضی” تک

یاد رہے کہ مودی نے گزشتہ برس ٹرمپ کے حق میں ہیوسٹن میں انتخابی ریلی میں شرکت کی تھی اور امریکا-بھارت اتحاد کو "AI: America-India” سے تعبیر کیا تھا۔

لیکن چند ماہ میں ہی تعلقات میں بگاڑ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں ذاتیات اور پالیسی دونوں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔