حکومت کا چینی کی درآمد کا ٹینڈر منسوخ کرنے کا فیصلہ، معیار اور قیمت قابل قبول نہ نکلے
حکومت نے ایک لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کے لیے جاری ٹینڈر منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ٹینڈر میں پیش کی گئی قیمتیں اور چینی کا سائز و معیار مطلوبہ تقاضوں پر پورا نہیں اتر سکا۔
اطلاعات کے مطابق، چینی کی درآمد میں حصہ لینے والی تین کمپنیوں سے مذاکرات بے نتیجہ رہے۔ باریک چینی کے لیے فی ٹن قیمت 539 سے 566 ڈالر تک سامنے آئی، جبکہ درمیانے سائز کی چینی کے لیے 599 ڈالر فی ٹن کی پیشکش ہوئی، جو حکومت کے لیے ناقابلِ قبول قرار پائی۔
چینی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کا بڑا فیصلہ، 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کی جائے گی
مزید یہ کہ درآمد شدہ چینی کو کراچی پورٹ پر لانے کے بعد کارگو ہینڈلنگ، ان لوڈنگ، ٹرکنگ اور ترسیلی اخراجات بھی اخراجات میں اضافہ کر رہے تھے۔ ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے ٹینڈر کو منسوخ کر دیا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ چینی کی درآمد میں نہ تو معیار پر سمجھوتہ کیا جائے گا اور نہ ہی کسی غیرقانونی یا خلاف ضابطہ اقدام کو برداشت کیا جائے گا۔
