ہیروشیما پر ایٹمی حملے کو 80 سال بیت گئے، ’ہیباکوشا‘ اب کتنے زندہ ہیں؟

اہم خبریںدنیا

جاپان میں 6 اگست 1945 کو ہونے والے ہیروشیما کے المناک ایٹمی حملے کو آج 80 برس مکمل ہو گئے، مگر اس کے اثرات آج بھی دنیا بھر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے اختتامی لمحات میں امریکا نے جاپانی شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرا کر تاریخ کا مہلک ترین ہتھیار استعمال کیا، جس سے فوراً 78 ہزار انسان لقمۂ اجل بنے، جبکہ تابکاری اثرات سے سال کے اختتام تک مزید ہزاروں افراد جان کی بازی ہار گئے۔

ہیروشیما پر حملے کے صرف تین دن بعد امریکا نے دوسرا ایٹم بم ناگاساکی پر گرایا، جس کے بعد 15 اگست کو جاپان نے ہتھیار ڈال دیے اور یوں دوسری جنگ عظیم کا اختتام ہوا۔

جاپان میں ہر سال 6 اگست کو ہیروشیما اور 9 اگست کو ناگاساکی میں یادگاری تقاریب منعقد ہوتی ہیں، جن میں دنیا بھر سے لوگ شرکت کرتے ہیں۔

غزہ جنگ بند کرائیں، موساد کے سابق سربراہ سمیت 600 سے زائد اسرائیلی سیکیورٹی عہدیداروں کا ٹرمپ کو خط

☢️ ’ہیباکوشا‘ کون ہیں اور اب کتنے زندہ ہیں؟

ایٹمی حملے میں بچ جانے والے افراد کو جاپانی زبان میں ’ہیباکوشا‘ کہا جاتا ہے۔ جاپانی حکومت کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اس وقت 99,130 ہیباکوشا زندہ ہیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 7,695 کم ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ان افراد کی بڑھتی ہوئی عمر ہے، جن کی اوسط عمر اب 86.13 سال ہو چکی ہے۔

🕊️ ہیروشیما کے میئر کا عالمی رہنماؤں کے لیے پیغام

یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہیروشیما کے میئر کازومی ماتسوئی نے کہا کہ دنیا بھر میں اب یہ سوچ زور پکڑ رہی ہے کہ جوہری ہتھیار قومی تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں، جو ماضی کے سبق کو پسِ پشت ڈالنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ ہیروشیما کا دورہ کریں، ایٹم بم کے تباہ کن اثرات کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں، اور امن کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔