ایئر انڈیا طیارہ حادثہ:تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی

اہم خبریںتازہ تریندنیا

احمد آباد میں پیش آنے والے ایئر انڈیا کے ہولناک طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس کے مطابق حادثے کا سبب اچانک ایندھن کی فراہمی کا بند ہونا تھا۔

انڈیا کے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر کے دونوں انجنوں کے فیول کنٹرول سوئچز حادثے سے لمحے بھر قبل ‘رن’ سے ‘کٹ آف’ پوزیشن پر منتقل ہو گئے تھے جس کا مطلب ہے کہ انجنوں تک ایندھن کی فراہمی یکدم رک گئی۔

تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ کاک پٹ وائس ریکارڈر کی ریکارڈنگ میں حادثے کے آخری لمحات کے دوران ایک پائلٹ دوسرے سے پوچھتا ہے:
"تم نے فیول بند کیوں کیا؟”
جس پر دوسرا پائلٹ حیرانی سے جواب دیتا ہے:
"میں نے کچھ نہیں کیا!”

یہ مکالمہ ظاہر کرتا ہے کہ فیول سپلائی کی بندش کسی تکنیکی خرابی یا خودکار نظام کی خرابی کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جو دونوں پائلٹس کی لاعلمی میں پیش آئی۔

ائیر انڈیا حادثہ: دوسرا کاک پٹ وائس ریکارڈر بھی ملبے سے برآمد

رپورٹ کے مطابق حادثے کے فوراً بعد طیارے کے بلیک باکس یعنی کاک پٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر  بازیاب کر لیے گئے تھے، جن کا ڈیٹا بعد ازاں بھارت میں کامیابی سے ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔

حادثے کے تناظر میں بھارتی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئر انڈیا کے بیڑے میں شامل تمام 33 بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیاروں کا جامع معائنہ کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ آئندہ کسی ممکنہ خرابی سے بچا جا سکے۔

یاد رہے کہ یہ اندوہناک حادثہ 12 جون کو پیش آیا تھا، جب ایئر انڈیا کا طیارہ احمد آباد سے روانہ ہونے کے فوری بعد قابو سے باہر ہو کر ایک میڈیکل کالج کے ہاسٹل پر گر گیا تھا۔
اس افسوسناک واقعے میں کم از کم 260 افراد جان کی بازی ہار گئے  جن میں 19 افراد زمین پر موجود تھے۔ حیران کن طور پر، حادثے میں صرف ایک مسافر زندہ بچ سکا۔

 

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف بھارت بلکہ جنوبی ایشیا کی فضائی تاریخ کا ایک بدترین سانحہ ہے، جس نے ہوابازی کی حفاظت کے عالمی معیار پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔