وفاقی حکومت کا بڑا اقدام: 40 سے زائد درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی
اسلام آباد:مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے اچھی خبر! حکومت پاکستان نے درآمدی اشیاء پر ٹیکس بوجھ کم کرنے کے لیے بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ 40 سے زائد اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے ہو چکا ہے۔
نئے نوٹیفکیشن کے مطابق:
-
موبائل فون سم کارڈز پر ریگولیٹری ڈیوٹی 15 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد رہ گئی۔
-
نئی گاڑیوں اور منی وینز پر عائد ڈیوٹی میں ایک تہائی تک کمی کی گئی۔
-
درآمدی ایس یو ویز پر ڈیوٹی 44 فیصد کم ہو کر اب 50 فیصد پر آ گئی ہے۔
خوراک کی اشیاء پر بھی رعایت:
-
مرغی اور مچھلی پر ریگولیٹری ڈیوٹی کو 5 فیصد تک محدود کر دیا گیا۔
-
پرندوں کے انڈوں پر ٹیکس 15 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد کر دیا گیا۔
-
کتے اور بلی کے خوراک پر ڈیوٹی 5 فیصد کمی کے بعد 40 فیصد کر دی گئی۔
-
انسٹنٹ کافی (ریٹیل پیک) پر بھی 5 فیصد ڈیوٹی کم کر دی گئی۔
خشک میوہ جات اور پھل بھی فہرست میں شامل:
-
تمباکو پر ریگولیٹری ڈیوٹی 40 فیصد تک کم کی گئی۔
-
کھجور، ناریل، برازیلی گری دار میوے، کاجو پر 16 فیصد تک کمی۔
-
انجیر، انناس، ایوکاڈو، امرود اور آم پر 20 فیصد تک ریلیف۔
-
پپیتا اور سیب پر ڈیوٹی 45 فیصد سے گھٹا کر 36 فیصد کر دی گئی۔
دیگر اشیاء:
-
فروزن مچھلی کی درآمد پر ٹیکس نصف کر کے 17.5 فیصد کر دیا گیا۔
-
پنیر اور دہی پر ریگولیٹری ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کر کے 40 فیصد کر دی گئی۔
-
گری دار میوے پر بھی 4 فیصد کمی کی گئی ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف صارفین کو ریلیف فراہم کرے گا بلکہ درآمد کنندگان کے لیے بھی مثبت اشارہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی اور رسد میں بہتری متوقع ہے۔
