قازقستان میں عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی
قازقستان میں خواتین کے عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے والے لباس یعنی نقاب پہننے پر سرکاری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ صدر قاسم جومارت توقایف نے اس قانون پر دستخط کر کے اسے نافذ العمل بنا دیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، یہ قانون ان ملبوسات پر پابندی عائد کرتا ہے جو شناخت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ تاہم قانون میں وضاحت کی گئی ہے کہ طبی مقاصد، خراب موسمی حالات، کھیلوں یا ثقافتی تقریبات کے دوران استعمال کیے جانے والے لباس کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ قانون میں براہِ راست مذہب یا مذہبی لباس کا ذکر نہیں کیا گیا، لیکن مبصرین کے مطابق اس کا ہدف واضح طور پر چہرہ چھپانے والا اسلامی نقاب ہے۔
صدر توقایف کا مؤقف
قازقستانی میڈیا کے مطابق، صدر توقایف نے رواں سال کے آغاز میں کہا تھا کہ "چہرہ چھپانے والے سیاہ لباس پہننے کے بجائے قومی طرز کا لباس پہننا بہتر ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:
"ہمارا قومی لباس، ہماری نسلی شناخت کو نمایاں کرتا ہے۔ ہمیں اس کی مقبولیت کو فروغ دینا چاہیے۔”
خطے میں بڑھتا ہوا رجحان
قازقستان کا یہ اقدام وسطی ایشیا میں بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے، جہاں اسلامی لباس پر ریاستی پابندیاں تیزی سے عام ہو رہی ہیں۔
-
کرغزستان میں فروری 2025 میں پولیس نے نقاب پر پابندی کے لیے سڑکوں پر گشت شروع کیا تھا۔
-
ازبکستان میں نقاب پہننے پر 250 امریکی ڈالر سے زائد کے جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔
-
تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن نے بھی ایسا قانون نافذ کیا ہے جس میں ایسے لباس پر پابندی ہے جو قومی ثقافت کا حصہ نہ ہو۔
