ٹرمپ اور مسک کی لفظی جنگ پھر شروع، نیا تنازع کیا ہے؟
امریکی سیاست میں اس وقت زبردست ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے، جہاں ایک جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا نیا اور متنازع ٹیکس پلان، جسے وہ فخر سے "بگ بیوٹی فل بل” کہتے ہیں، کانگریس میں ووٹنگ کے لیے پیش کر دیا ہے، وہیں دوسری جانب معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا کے بانی ایلون مسک نے اس بل پر شدید تنقید کرتے ہوئے ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کی دھمکی دے دی ہے۔
یہ بل، جسے سینیٹ میں ایک بھی ووٹ نہ مل سکا اور ایوان نمائندگان میں بمشکل ایک ووٹ سے منظور کیا گیا، امریکی معیشت اور فلاحی پالیسیوں کے حوالے سے وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے۔ اس میں دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ اور سماجی بہبود کی اسکیموں میں کٹوتیوں کی تجاویز شامل ہیں۔
ایلون مسک کی شدید تنقید اور انتباہ
ایلون مسک، جو صرف 40 دن قبل تک صدر ٹرمپ کی کابینہ کا حصہ تھے، اب ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کے سخت ترین نقاد بن کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک سلسلہ وار پوسٹس میں اس بل کو "تباہ کن” اور "کساد بازاری کا پیش خیمہ” قرار دیا۔
مسک نے دعویٰ کیا کہ اس بل کے نفاذ سے امریکہ کا قومی قرضہ کم از کم 6 ٹریلین ڈالر بڑھ جائے گا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں امریکی ریپبلکن پارٹی کو "پورکی پگ پارٹی” کہا، جو کہ ایک سست، بے فائدہ اور ہکلانے والے کارٹون سور کا حوالہ ہے، اور امریکی نظام کو "یک جماعتی تماشہ” قرار دیا، جہاں عوام کی بجائے اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کا جوابی وار
صدر ٹرمپ نے ایلون مسک کے بیانات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "مسک شاید دنیا کے وہ واحد انسان ہیں جنہیں تاریخ میں سب سے زیادہ سرکاری سبسڈی ملی ہے۔ اگر یہ سبسڈیز نہ ہوتیں تو انہیں اپنی دکان بند کر کے جنوبی افریقہ واپس جانا پڑتا!”
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ٹرمپ نے مزید کہا،
"نہ کوئی راکٹ لانچ ہوتا، نہ سیٹلائٹ، نہ الیکٹرک کارز۔ شاید ہمیں DOGE کو یہ سبسڈی چیک کرنے کے لیے کہنا چاہیے، بہت بڑی بچت ہو سکتی ہے!”
تنازع کی جڑ: ای وی ٹیکس کریڈٹ کی ممکنہ منسوخی
ٹرمپ کے مجوزہ ٹیکس پلان میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے لیے دی جانے والی 7500 ڈالر کی ٹیکس کریڈٹ ختم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ یہ وہ رعایت ہے جس کی بنیاد پر ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا نے امریکہ بھر میں اپنی گاڑیوں کو عام صارفین تک پہنچایا۔ اس مجوزہ اقدام نے ایلون مسک کو سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کیا، جو نہ صرف اس کاروباری ماڈل کے لیے خطرہ ہے بلکہ ماحولیاتی پالیسیوں کے بھی منافی ہے۔
نئی سیاسی جماعت کا اعلان؟
ایلون مسک نے اپنی پوسٹس میں تجویز دی ہے کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ میں ایک نئی عوامی سیاسی جماعت تشکیل دی جائے، جو شفافیت، مالیاتی دیانت داری اور قومی مفادات کی علمبردار ہو۔”
یہ اعلان امریکی سیاسی منظرنامے میں ایک نئے باب کا اشارہ دے رہا ہے، جہاں کاروباری شخصیات نہ صرف معیشت بلکہ سیاست میں بھی فعال کردار ادا کرنے کو تیار نظر آتی ہیں۔
