ایلون مسک نے ٹرمپ سے ہار مان لی؟
دنیا کی معروف الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں اپنی سوشل میڈیا پوسٹس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "گزشتہ ہفتے وہ بہت دور چلے گئے۔”
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنی ایک پوسٹ میں مسک نے ٹرمپ کے حوالے سے ماضی کی کچھ باتوں کو ناپسندیدہ قرار دیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ وہ بجٹ بل اور حکومتی پالیسیوں پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ماضی کی قربت، آج کی کشیدگی
یاد رہے کہ ایلون مسک کو ماضی میں صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد مسک کو صدارتی مشیر بھی مقرر کیا گیا تھا، تاہم جلد ہی دونوں کے درمیان ماحولیاتی پالیسیوں اور دیگر حکومتی اقدامات پر اختلافات سامنے آ گئے، جس کے بعد مسک نے مشیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
لفظی جنگ اور معاشی نقصان
تعلقات کی کشیدگی حالیہ دنوں میں اس وقت بڑھ گئی جب ٹرمپ نے مسک پر سرکاری معاہدے ختم کرنے کی دھمکی دی۔ اوول آفس سے خطاب میں ٹرمپ نے الزام لگایا کہ مسک الیکٹرک گاڑیوں کے لیے دی جانے والی سبسڈی ختم ہونے پر ناراض ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا:
“ایلون مجھے برداشت نہیں کر پا رہا تھا، میں نے اسے عہدے سے ہٹا دیا۔ میں نے اس کا EV مینڈیٹ بھی ختم کر دیا، جس سے لوگ ایسی گاڑیاں خریدنے پر مجبور ہو گئے تھے جو وہ لینا ہی نہیں چاہتے تھے۔”
اس بیان کے بعد مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی، اور ٹیسلا کے شیئرز میں 14 فیصد کمی دیکھی گئی۔ کمپنی کو 152 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جو اس کی تاریخ کا سب سے بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔
مسک کا جوابی حملہ: "اگر میں نہ ہوتا تو ٹرمپ ہار جاتے”
ایلون مسک نے اپنے ردعمل میں کہا:
“اگر میں نہ ہوتا تو ٹرمپ الیکشن ہار جاتے، ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان پر قابض ہوتے، اور سینیٹ میں ریپبلکنز 51-49 سے پیچھے ہوتے۔”
انہوں نے بجٹ بل کو "قابل نفرت اور گھناؤنا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان ارکان کانگریس کو پرائمری الیکشن میں چیلنج کریں گے جو اس کے حق میں ووٹ دیں گے۔
بجٹ بل اور EV انڈسٹری کا مستقبل
این بی سی نیوز کے مطابق، ایلون مسک نے اس بات پر سخت تحفظات ظاہر کیے کہ بجٹ بل میں الیکٹرک گاڑیوں اور سولر انرجی پر دی جانے والی ٹیکس کریڈٹس کو ختم کیا جا رہا ہے۔ یہ مراعات ٹیسلا سمیت کئی گرین انرجی کمپنیوں کی آمدنی کا اہم ذریعہ رہی ہیں۔
اس مجوزہ قانون میں الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان پر سالانہ 250 ڈالر کا نیا ٹیکس بھی شامل کیا گیا ہے، جس پر EV صارفین اور کمپنیوں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
📌 پس منظر:
-
ایلون مسک اور ٹرمپ کے تعلقات ماضی میں کافی قریبی رہے۔
-
دونوں میں اختلافات ماحولیاتی پالیسیوں، سبسڈی، اور بجٹ ترجیحات پر پیدا ہوئے۔
-
موجودہ لفظی جنگ نے نہ صرف سیاسی ماحول کو گرما دیا بلکہ ٹیسلا کو معاشی طور پر نقصان بھی پہنچایا۔
🌍 بین الاقوامی اثرات:
ایلون مسک کا شمار دنیا کے بااثر ترین کاروباری افراد میں ہوتا ہے، اور ٹرمپ ایک ممکنہ صدارتی امیدوار ہیں۔ دونوں کے درمیان کشیدگی کا اثر ٹیکنالوجی انڈسٹری، مالیاتی مارکیٹس اور امریکی پالیسیوں پر دور رس پڑ سکتا ہے۔
