ایپل نے یورپی یونین کی پابندیوں کے تحت ایپ اسٹور کی فیس میں تبدیلیاں کردیں
ٹیکنالوجی کی دنیا میں جدت کی علامت سمجھی جانے والی کمپنی ایپل نے یورپی یونین کے بڑھتے دباؤ کے تحت اپنے ایپ اسٹور کی پالیسیوں اور فیسوں میں بڑی تبدیلیاں کر دی ہیں۔
یہ اقدام یورپی کمیشن کے اینٹی ٹرسٹ قوانین اور ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (DMA) کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جس کا مقصد ڈویلپرز کو زیادہ آزادی دینا اور صارفین کے لیے مسابقتی ماحول پیدا کرنا ہے۔
ایپ اسٹور پر فیسوں کا نیا ڈھانچہ
ایپل نے اپنے ایپ اسٹور پر خریداریوں پر نئی پروسیسنگ فیس کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت:
-
ڈویلپرز کو 20 فیصد تک فیس ادا کرنا ہوگی
-
’اسمال بزنس پروگرام‘ کے تحت یہ فیس 13 فیصد تک کم کی جا سکتی ہے
-
اگر ڈویلپرز اپنی ایپس میں صارفین کو بیرونی ادائیگی کے طریقوں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، تو 5 سے 15 فیصد تک اضافی فیس لاگو ہوگی
یہ فیس اس وقت لاگو ہوگی جب صارف ایپ کے اندر موجود کسی لنک کے ذریعے ایپ کے باہر ادائیگی کرے گا۔
ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ اور قانونی دباؤ
ایپل کی یہ تبدیلیاں یورپی یونین کے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (DMA) کے تناظر میں کی گئی ہیں۔ اس قانون کا مقصد بڑی ٹیک کمپنیوں کے مارکیٹ پر حاوی ہونے کے رجحان کو محدود کرنا اور چھوٹے کاروباروں و صارفین کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔
ڈی ایم اے کے تحت اگر ایپل ان قوانین پر عملدرآمد نہ کرتا تو اسے 50 ملین یوروز تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ ایپل کی طرف سے یہ تبدیلی ایک روک تھام پر مبنی اقدام کے طور پر دیکھی جا رہی ہے تاکہ قانونی چارہ جوئی اور مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
ایپک گیمز کی تنقید: ’انصاف کا مذاق‘
اگرچہ ایپل کا مؤقف یہ ہے کہ نئی پالیسی ڈویلپرز کو زیادہ اختیارات فراہم کرے گی، لیکن کچھ اسٹیک ہولڈرز نے اس پر تنقید بھی کی ہے۔
ایپک گیمز کے سی ای او ٹم سوئینی نے ایپل کی ان پالیسیوں کو ’’انصاف کا مذاق‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ:
"ایپل صارفین اور ڈویلپرز کی آزادی کے راستے میں مصنوعی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے، اور ان سے نئی شکل میں فیسیں وصول کر کے بالواسطہ کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔”
ایپک گیمز ماضی میں بھی ایپل کے خلاف قانونی جنگ لڑ چکا ہے، اور اب ایک بار پھر نئی پالیسی پر سوالات اٹھا رہا ہے۔
