چینی صدر شی جن پنگ برکس سربراہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے

اہم خبریںتازہ ترینچیندنیا

ریو ڈی جنیرو / بیجنگ : چین کے صدر شی جن پنگ نے 6 اور 7 جولائی کو برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کی جگہ چینی وزیراعظم لی کیانگ اجلاس میں چین کی نمائندگی کریں گے۔

یہ فیصلہ غیر معمولی اس لیے بھی ہے کہ صدارت سنبھالنے کے بعد شی جن پنگ پہلی بار کسی برکس سربراہی اجلاس سے غیر حاضر ہوں گے۔ یہاں تک کہ کوویڈ-19 کی وبا کے دوران بھی وہ اجلاس میں ورچوئلی شریک ہوتے رہے ہیں۔

🗓️ سرکاری مؤقف: شیڈولنگ کا مسئلہ

چینی میڈیا اور سرکاری بیانات کے مطابق، صدر شی کی غیر حاضری کی وجہ ایک "شیڈولنگ کانفلکٹ” ہے، یعنی ان کے مصروف شیڈول میں برکس اجلاس کے لیے وقت نکالنا ممکن نہ ہو سکا۔

🌐 مغربی میڈیا کا مؤقف: سفارتی کشیدگی

تاہم مغربی ذرائع ابلاغ اور برازیل میں موجود سفارتی مبصرین اس فیصلے کو ایک سفارتی ناراضی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق:

"برازیل کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اسٹیٹ ڈنر کی خصوصی دعوت دی گئی ہے، جو کہ چین کے لیے ناپسندیدہ پیغام بن گئی۔ بیجنگ کو خدشہ ہے کہ اس اقدام سے یہ تاثر جائے گا کہ برکس میں بھارتی قیادت کو ترجیح حاصل ہے اور چینی صدر کی حیثیت ثانوی بنتی دکھائی دے سکتی ہے۔”

ٹیرف جنگ کے بعد امریکا کا چین سے پہلا تجارتی معاہدہ

🔍 تجزیہ: برکس میں دراڑ یا وقتی سفارتی تناؤ؟

سیاسی مبصرین کے مطابق شی جن پنگ کی غیر حاضری محض شیڈولنگ کا مسئلہ نہیں بلکہ بھارت اور چین کے درمیان سفارتی توازن کی نزاکت کو ظاہر کرتی ہے۔ بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی برازیل کی قربت اور اسٹیٹ ڈنر جیسے اقدامات چین کو برکس کے اندر اپنی مرکزی حیثیت کھوتی محسوس ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم لی کیانگ کی موجودگی اس بات کی ضمانت ہے کہ چین برکس پلیٹ فارم پر اپنی موجودگی اور پالیسی کو مؤثر انداز میں جاری رکھے گا۔