ہاکی کا ایک کڑوا سچ۔۔۔ جس کا جاننا ضروری ہے
تحریر/طاہرلطیف
پاکستان ہاکی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ چکی ہے۔ یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ ایک ایسی ٹیم جس نے پورے سال (ماسوائے ٹورنامنٹ سے دو ہفتے قبل) نہ کوئی تربیتی کیمپ لگایا، نہ ہی کسی بڑی ٹیم سے کوئی دوستانہ یا تیاری کا میچ کھیلا، وہ آج دنیا کی بہترین ٹیموں کے خلاف سینہ تان کر میدان میں موجود ہے۔ اور یہی نہیں، ہم نے ان سے سیمی فائنل اور فائنل جیتنے کی توقعات بھی باندھ رکھی ہیں۔
ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل یہ طے تھا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ، ہاکی فیڈریشن کو ملائشیا ٹور کیلئے مالی معاونت فراہم کرے گا۔ مگر روانگی سے صرف چند دن پہلے حسبِ روایت بورڈ نے فنڈز جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ملائشیا نے سابقہ واجبات کی ادائیگی کا بھی مطالبہ کیا تھا، جو 2023 میں ادا نہیں کیے جا سکے تھے۔ فیڈریشن نے واضح کیا کہ یہ ادائیگی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے کی جائے گی، لیکن بورڈ نے اس وضاحت کو یوں لیا کہ جیسے فیڈریشن کے پاس خود وسائل موجود ہیں اور یوں فنڈز روک دیے گئے۔
فیڈریشن کے پاس جو تھوڑی بہت رقم موجود تھی، وہ کھلاڑیوں کے ڈیلی الاؤنس اور دیگر بنیادی سہولتوں کے لیے مختص تھی۔ اگر وہ رقم بھی اخراجات میں صرف ہو جاتی، تو ٹیم کا بیرونِ ملک سفر ہی ممکن نہ ہوتا۔ اس نازک مرحلے پر ایک مشکل فیصلہ کیا گیا۔ کھلاڑیوں کو اعتماد میں لیا گیا، انہیں پوری صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ سب نے مل کر یہ طے کیا کہ پہلے ٹیم کو روانہ کیا جائے، باقی معاملات بعد میں دیکھے جائیں گے۔ الاؤنس بعد میں بھی دیا جا سکتا ہے، لیکن پاکستان کے جھنڈے کو عالمی میدان میں لہرانا ضروری ہے۔
ایسے وقت میں صرف ایک ادارہ، پی ٹی سی ایل، سامنے آیا اور ٹیم کو سہارا دیا۔ اگر یہ تعاون نہ ہوتا، تو شاید ٹیم کا روانہ ہونا ہی ممکن نہ ہوتا۔ اور آج ہم نے انہی نوجوانوں سے توقعات کی بلندیاں وابستہ کر رکھی ہیں۔
علاوہ ازیں، ہاکی فیڈریشن کئی بار یہ بات اٹھا چکی ہے کہ گول کیپنگ کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے ایک غیر ملکی کوچ کی ضرورت ہے۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ موجودہ کوچ طاہر زمان کی تنخواہ بھی فیڈریشن خود ادا کر رہی ہے، کیونکہ "اسپورٹس کے سرکاری مالکان” مالی تعاون سے مکمل طور پر دستبردار ہو چکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں فارن کوچ کی تقرری محض ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔
تاہم سلام ہے ان ہاکی کھلاڑیوں کو جنہوں نے ذاتی مفادات، سہولتوں اور توقعات کو پسِ پشت ڈال کر وطن کے لیے میدان میں قدم رکھا۔ اور قابلِ فخر بات یہ ہے کہ ماضی کی منفی روایات کو نہیں دہرایا۔
میری اطلاع کے مطابق، سیمی فائنل تک رسائی کے بعد گزشتہ روز ٹیم میٹنگ میں کھلاڑیوں اور آفیشلز کے درمیان اہم مشاورت ہوئی۔ اس میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹیم جو بھی دستیاب صلاحیت رکھتی ہے، اس کو پوری توانائی اور یقین کے ساتھ میدان میں لایا جائے گا۔ گول کیپر کا شعبہ واقعی کمزور ہےاس بات کا اعتراف آفیشلز نے خود کیالیکن ٹیم کا جذبہ اس کمزوری پر غالب ہے۔
میٹنگ میں کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ وہ یہ ٹورنامنٹ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ پاکستان اور قومی کھیل ہاکی کے وقار کے لیے جیتنا چاہتے ہیں۔ کمزوریاں، مشکلات اور ہار جیت اپنی جگہ، مگر میدان میں سو فیصد جان لڑانے کا عزم پختہ ہے۔
پاکستان زندہ باد
ہاکی پائندہ باد
