ایران پر ممکنہ حملے کے خدشے پر خلیجی ریاستوں میں جوہری آلودگی اور جوابی کارروائیوں کا خوف بڑھ گیا
خلیجی عرب ریاستوں میں اس وقت شدید تشویش کی فضا ہے کیونکہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ یا اسرائیل کے ممکنہ حملے کے خدشات نے پورے خطے کو خطرناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
بوشہر میں واقع ایران کا واحد فعال نیوکلیئر پاور پلانٹ خلیجی دارالحکومتوں سے قریب تر ہے، جس کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی، پانی کی آلودگی اور جوابی حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
عمان میں سوشل میڈیا پر شہریوں کو نیوکلیئر حادثے کی صورت میں احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جا رہا ہے، جن میں بند کمروں میں پناہ لینے اور وینٹیلیشن سسٹم بند کرنے کی ہدایات شامل ہیں۔
بحرین میں 33 شیلٹرز تیار کیے جا چکے ہیں جبکہ ہنگامی سائرنز کی آزمائش کی گئی ہے۔
قطری وزیراعظم محمد الثانی نے انکشاف کیا ہے کہ اگر بوشہر پلانٹ تباہ ہوتا ہے تو خلیجی ممالک کا پانی صرف تین دن میں ختم ہو سکتا ہے، کیونکہ تمام ریاستیں سمندری پانی کو ڈی سیلینیٹ کر کے استعمال کرتی ہیں۔
قطر، کویت اور یو اے ای میں بڑے پیمانے پر پانی کے ذخائر قائم کیے جا چکے ہیں۔
خلیج تعاون کونسل (GCC) نے بھی کویت میں قائم ہنگامی مرکز کو فعال کر دیا ہے تاکہ ریڈی ایشن اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جا سکیں۔
دوسری طرف، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ حملے کے حامی نظر آ رہے ہیں، جس سے سفارتی حل کی امیدیں مدھم ہوتی جا رہی ہیں۔
علاقے میں موجود امریکی تنصیبات، خاص طور پر بحرین میں امریکی نیول کمانڈ، ممکنہ ایرانی ردِعمل کا نشانہ بن سکتی ہیں۔
ابوظہبی اور دبئی میں رہنے والے غیر ملکی شہریوں میں اگرچہ فی الحال کھلی گھبراہٹ نہیں دیکھی گئی، تاہم ایک بے چینی کی لہر ضرور موجود ہے۔
خلیج میں پانی، معیشت اور شہری تحفظ سے جڑی یہ صورتحال کسی بھی بڑی غلطی کی صورت میں پورے خطے کو غیر معمولی بحران میں دھکیل سکتی ہے۔
