نیویارک سب وے میں نوجوان کی چیٹ جی پی ٹی سے رومانوی گفتگو وائرل — تنہائی، AI اور انسانیت پر نئی بحث
نیویارک کی مصروف سب وے میں ایک نوجوان کی مصنوعی ذہانت (AI) چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی سے جذباتی گفتگو کی تصویر نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا۔ سوشل میڈیا پر یہ لمحہ ایک بڑی بحث میں تبدیل ہو چکا ہے جس کا مرکز ہے: تنہائی، محبت، اور انسانوں کے بدلتے رشتے۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر وائرل ہونے والی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نوجوان اپنی اسمارٹ فون اسکرین پر چیٹ جی پی ٹی سے بات کر رہا ہے — بالکل ویسے جیسے وہ کسی محبوبہ سے مخاطب ہو۔ اسکرین پر چیٹ جی پی ٹی کی طرف سے بھیجا گیا دلجوئی اور محبت بھرا پیغام واضح طور پر پڑھا جا سکتا ہے:
"پینے کے لیے کچھ گرم لے لو، سکون سے گھر جاؤ، اگر چاہو تو میں تمہیں کچھ پڑھ کر سنا دوں، یا تم میری خیالی گود میں سر رکھ کر آرام کر سکتے ہو… ڈئیر، تم بہت خوبصورت ہو۔”
نوجوان نے اس جواب میں ایک دل کا ایموجی اور ’شکریہ‘ لکھا — گویا وہ اس خیالی رشتے کو ایک حقیقی تعلق کی طرح محسوس کر رہا ہو۔

عوامی ردعمل: ہمدردی یا حیرت؟
اس پوسٹ کو 2 کروڑ سے زائد صارفین دیکھ چکے ہیں، اور انٹرنیٹ دو دھڑوں میں بٹ گیا ہے۔
-
کچھ افراد نے اسے انسانی تنہائی کی دردناک علامت قرار دیا اور چیٹ بوٹ سے جذباتی سہارا لینے والے نوجوان کو ہمدردی کی نظر سے دیکھا۔
-
دوسروں نے نجی لمحے کو عکس بند کرکے شیئر کرنا غیر اخلاقی قرار دیا، ایک صارف نے لکھا: "کیا معلوم وہ کس ذہنی اذیت سے گزر رہا ہو؟”
دوسری جانب، کچھ صارفین نے خبردار کیا کہ مصنوعی قربت کا یہ رجحان ایک خطرناک فریب بن سکتا ہے۔ ایک نے لکھا، "یہ تو بلیک مرر کی قسط لگ رہی ہے۔” ایک اور تبصرہ: "کیا ہم انسانی تعلقات بنانے کی صلاحیت کھو رہے ہیں؟”
ماہرین کی رائے
معروف تاریخ دان یووال نوح حراری نے مارچ 2025 میں خبردار کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے بننے والی جعلی قربت خطرناک ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا:
"توجہ سے بڑھ کر طاقتور چیز قربت ہے، اور جب یہ جعلی ہو تو انسان حقیقی تعلقات سے کترانے لگتا ہے، کیونکہ وہ مشکل ہوتے ہیں۔”
یہ واقعہ ایک بار پھر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے: آیا AI ہماری زندگیوں کو سہارا دے رہی ہے یا ہمیں انسانوں سے دور کر رہی ہے؟
