افریقا ٹوٹنے جا رہا ہے؟ سائنس دانوں کی نئی تحقیق نے تہلکہ مچا دیا!
برِاعظم افریقا مستقبل میں دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا، اور ان کے درمیان ایک نیا سمندر اُبھر آئے گا! یہ کوئی سائنس فکشن کہانی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سائنسی تحقیق کا انکشاف ہے۔
یونیورسٹی آف گلاسگو اور اسکاٹش یونیورسٹیز انوائرنمنٹل ریسرچ سینٹر کے ماہرین کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق، زمین کی گہرائی میں شدید آتش فشانی سرگرمی برِاعظم افریقا کے ٹوٹنے کا سبب بن رہی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ زمین کی سطح سے تقریباً 2900 کلومیٹر نیچے پگھلی ہوئی چٹان کا ایک بہت بڑا ذخیرہ افریقا کے مشرقی حصے کے نیچے موجود ہے۔ یہ مادہ اوپر کی طرف زور لگا کر زمین کو توڑ رہا ہے اور ٹیکٹونک پلیٹوں کو علیحدہ کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقی افریقا کا خطہ معمول سے سیکڑوں میٹر بلند ہے۔
اس عمل کو ایسٹ افریقن رفٹ سسٹم (EARS) کہا جاتا ہے، جو زمین پر موجود سب سے بڑا ایکٹو کانٹینینٹل رفٹ سسٹم ہے۔ یہ سسٹم افریقا کے تقریباً 3500 کلومیٹر لمبے حصے کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ برِاعظموں کا اس طرح ٹوٹنا زمین کی تاریخ میں نیا نہیں۔ آج سے تقریباً 24 کروڑ سال قبل زمین پر صرف ایک ہی سپر کانٹینینٹ موجود تھا، جسے پینگیا کہا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی پینگیا مختلف حصوں میں ٹوٹا اور آج ہمیں دنیا کے سات برِاعظم دکھائی دیتے ہیں۔
پروفیسر فِن اسٹورٹ، جو اس تحقیق کے سربراہ ہیں، کہتے ہیں کہ یہ نئی معلومات ہمارے زمین کے اندرونی نظام کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہیں، اور اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ قدرتی تبدیلیاں مسلسل جاری ہیں — چاہے ہم انہیں روزمرہ زندگی میں محسوس نہ بھی کریں۔
یہ سائنسی انکشاف نہ صرف ماہرینِ ارضیات بلکہ ہر اُس شخص کے لیے دلچسپی کا باعث ہے جو زمین کی حیرت انگیز ساخت اور مستقبل کی ممکنہ تبدیلیوں سے واقفیت رکھنا چاہتا ہے۔ افریقا کا دو ٹکڑوں میں تقسیم ہونا ممکن ہے ابھی لاکھوں سال دور ہو، لیکن یہ عمل زمین کی تہہ میں خاموشی سے جاری ہے۔
