پاکستان کا کرپٹو سے متعلق مؤقف میں بڑی تبدیلی، اسٹریٹجک ریزرو بنانے کا اعلان

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

اسلام آباد / میامی: پاکستان نے کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت نہ دینے کے پرانے مؤقف سے انحراف کرتے ہوئے اس حوالے سے ایک نیا باب کھول دیا ہے۔ بٹ کوائن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے بلاک چین و کرپٹو، بلال بن ثاقب نے انکشاف کیا کہ حکومتِ پاکستان اب باضابطہ طور پر بِٹ کوائن اسٹریٹجک ریزرو قائم کرنے جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام امریکا کی کرپٹو پالیسیوں سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اس کے تحت پاکستان کرپٹو اثاثہ جات کو اسٹریٹجک سطح پر محفوظ بنانے کی سمت بڑھ رہا ہے۔

بلال بن ثاقب کے مطابق، ’نیشنل کرپٹو کونسل‘ کا قیام رواں سال فروری میں عمل میں آ چکا ہے، جس کا بنیادی مقصد کرپٹو کرنسی سے متعلقہ ریگولیٹری پالیسیوں کو ترتیب دینا اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ کونسل غیرملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور پاکستان میں بلاک چین انڈسٹری کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

پاکستان کی یہ پالیسی تبدیلی کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک بڑی پیشرفت تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ ماضی میں ملک کے مالیاتی ریگولیٹرز کرپٹو کرنسی کو غیر قانونی اور غیر محفوظ قرار دے چکے تھے۔ اب حکومت کے اس نئے مؤقف سے نہ صرف ٹیکنالوجی اور فنانس سیکٹر میں نئی راہیں کھلنے کی امید ہے بلکہ یہ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی پاکستان کو ایک ممکنہ کرپٹو فرینڈلی منزل بنا سکتی ہے۔