بنگلہ دیش، جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما اظہر اسلام کی موت کی سزا کالعدم، فوری رہائی کا حکم
بنگلہ دیش کی ایک اعلیٰ عدالت نے جماعت اسلامی (بنگلہ دیش) کے مرکزی رہنما اظہر الاسلام کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اُن کی فوری رہائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیش میں کئی سالوں سے جنگی جرائم کے مقدمات اور ان پر تنقید جاری ہے۔
🔍 پسِ منظر:
اظہر الاسلام کو 30 دسمبر 2014 کو بنگلہ دیش کے جنگی جرائم کے ٹرائبیونل نے 1971 کی جنگِ آزادی کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ بعد ازاں ان کی اپیل بھی مسترد کر دی گئی تھی۔
تاہم، جولائی 2020 میں انہوں نے عدالت عظمیٰ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی، جس پر آج فیصلہ سنایا گیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر اظہر الاسلام کے خلاف کوئی اور مقدمہ زیر التوا نہیں، تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
⚖️ عدالتی بینچ اور فیصلے کی تفصیل:
اس سات رکنی اپیلنٹ بینچ کی سربراہی بنگلہ دیش کے چیف جسٹس ڈاکٹر سید رفعت احمد نے کی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ شواہد کی بنیاد پر سزائے موت برقرار رکھنا ممکن نہیں تھا، اس لیے فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔
🗣️ جماعت اسلامی کا ردِعمل:
فیصلے کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر، شفیق الرحمان نے ڈھاکہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
"ہم بدلہ نہیں، انصاف چاہتے تھے۔ آج عدالت نے ثابت کر دیا کہ انصاف کو دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ صرف ایک فرد کی رہائی نہیں، بلکہ ایک اصول کی فتح ہے۔”
🏛️ سیاسی تناظر:
یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں سنہ 2010 میں دو علیحدہ ٹرائبیونلز قائم کیے گئے تھے تاکہ 1971 کی جنگِ آزادی کے دوران ہونے والے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات اور سماعت کی جا سکے۔ ان عدالتوں کا قیام اس وقت کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے حکم پر عمل میں آیا تھا۔
ان ٹرائبیونلز کے ذریعے جن افراد کو مجرم قرار دیا گیا، ان میں سے زیادہ تر کا تعلق جماعت اسلامی یا دیگر حزبِ اختلاف کی جماعتوں سے تھا۔
جماعت اسلامی کا مؤقف رہا ہے کہ ان مقدمات کو سیاسی انتقام کے طور پر استعمال کیا گیا، اور بیشتر کارروائیاں بند کمروں میں اور شفافیت سے محروم تھیں۔
📌 بین الاقوامی تنقید:
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کئی تجزیہ کار ان ٹرائبیونلز پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انصاف کے اصولوں پر سمجھوتہ کیا گیا، اور حکومت نے انہیں اپنے مخالفین کو خاموش کرانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
