اسرائیل کا غزہ میں اسکول پر فضائی حملہ، 25 فلسطینی شہید

دنیا

اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ کے معصوم اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اتوار کی رات اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کے ایک اسکول پر فضائی بمباری کی، جس کے نتیجے میں 25 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کے وسطی علاقے میں واقع فاہمی الجرجاوی اسکول کو نشانہ بنایا، جس میں جنگ سے متاثرہ بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔ حملے کے بعد اسکول میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور عمارت کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔

🏫 پناہ گاہ پر بمباری: آدھا اسکول تباہ، ملبے تلے کئی افراد

غزہ سول ڈیفنس حکام کے مطابق، اسکول کا تقریباً آدھا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جب کہ متاثرہ عمارت کے ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ امدادی ٹیمیں مسلسل ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔

سول ڈیفنس ذرائع نے کہا:

"ہمیں ہر لمحہ مزید لاشیں ملنے کا اندیشہ ہے، کیونکہ حملے کے وقت درجنوں افراد اسکول کے کمروں میں سو رہے تھے۔”

⚖️ عالمی برادری سے جنگی جرائم روکنے کا مطالبہ

غزہ کی مقامی حکومت نے اس حملے کو "جنگی جرم” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کو بے گناہ شہریوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں پر حملے کرنے سے روکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسکول اقوامِ متحدہ کے تحت رجسٹرڈ ادارہ تھا، جس میں جنگ زدہ شہریوں کو عارضی پناہ فراہم کی گئی تھی، اور اس کا نشانہ بنانا عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

🎯 حوثیوں کا اسرائیلی ائیرپورٹ پر حملے کا دعویٰ

ادھر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اور محاذ بھی گرم ہو گیا ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں نے اسرائیل کے مرکزی بین گوریون انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

تاہم اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ اس نے مذکورہ میزائل کو فضا میں ہی کامیابی سے تباہ کر دیا اور کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

🌍 انسانی بحران مزید سنگین، عالمی خاموشی خطرناک

غزہ میں جاری جنگ کے باعث انسانی بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ اسپتال تباہ، بجلی ناپید، پانی کا قحط، اور خوراک کی قلت نے لاکھوں فلسطینیوں کی زندگی کو دوزخ بنا دیا ہے، جب کہ بین الاقوامی برادری کی خاموشی، سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔