سوشل میڈیا اب وقت کا ضیاع نہیں، نوجوانوں کی سیکھنے، خود اعتمادی اور ذہنی سکون کی نئی دنیا

سائنس ٹیکنالوجیسائنس ٹیکنالوجی

اکثر والدین اور اساتذہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ نوجوان اپنا زیادہ وقت موبائل فونز اور سوشل میڈیا پر ضائع کر رہے ہیں۔ لیکن ایک حالیہ تحقیق نے اس عام تاثر کو حیرت انگیز طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق، آج کے نوجوان سوشل میڈیا کو محض تفریح نہیں بلکہ سیکھنے، خود کو بہتر بنانے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا: نئی مہارتیں سیکھنے کا ذریعہ

500 نوجوانوں اور ان کے والدین پر کی گئی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ نوجوانوں کی اکثریت اب تعلیم، مہارت اور ذاتی ترقی کے لیے والدین یا تعلیمی اداروں کی بجائے سوشل میڈیا سے رجوع کر رہی ہے۔

تحقیق کے اعداد و شمار کچھ یوں ہیں:

66 فیصد نوجوان سوشل میڈیا سے مہارتیں سیکھ رہے ہیں۔

35 فیصد اسے تیز اور آسان سیکھنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

72 فیصد نوجوان سوشل میڈیا کو نئی مہارتیں سیکھنے کے لیے مؤثر سمجھتے ہیں۔

10 فیصد ذہنی سکون اور ’مائنڈ فلنیس‘ جیسی تکنیکیں بھی سوشل میڈیا سے سیکھتے ہیں۔

کون سی مہارتیں نوجوان سیکھ رہے ہیں؟

تحقیق کے مطابق نوجوانوں کی دلچسپی اب صرف ویڈیوز دیکھنے تک محدود نہیں رہی، بلکہ وہ 30 سے زائد اقسام کی مہارتیں سوشل میڈیا سے سیکھ رہے ہیں، جن میں شامل ہیں:
ورزش، کھانا پکانا، ہیئر اسٹائلنگ، میک اپ، ڈانس، ڈرائنگ، کوڈنگ، بیکنگ، نئی زبانیں، سیلف ڈیفنس، پریزنٹیشن اسکلز، بجٹ سازی، سی وی لکھنا، فرسٹ ایڈ، ذہنی سکون، صفائی، ری سائیکلنگ، میڈیٹیشن، اور دیگر کئی کارآمد صلاحیتیں۔

والدین کا بدلا ہوا رویہ

اگرچہ بنیادی مہارتیں جیسے کھانا پکانا یا صفائی ابھی بھی والدین سے سیکھی جاتی ہیں، مگر اب والدین میں سے ایک چوتھائی افراد خوش ہیں کہ ان کے بچے سوشل میڈیا کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

ذہنی سکون اور ٹک ٹاک کی نئی کاوش

ذہنی سکون کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹک ٹاک نے 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کے لیے ’گائیڈڈ میڈیٹیشن‘ کا فیچر متعارف کرایا ہے، جو رات 10 بجے کے بعد خود بخود آن ہو جائے گا۔ اس میں آرام دہ موسیقی اور سانس لینے کی تکنیکیں شامل ہوں گی تاکہ نیند سے قبل ذہنی سکون حاصل کیا جا سکے۔

تخلیقی صلاحیتوں اور خود اعتمادی میں اضافہ

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نئی مہارتیں سیکھنے سے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے اور وہ خود کو زیادہ پراعتماد محسوس کرنے لگے ہیں۔

سوشل تعاون میں بھی سرگرم

ٹک ٹاک نے دنیا بھر کی 30 سے زائد ذہنی صحت کی تنظیموں کو 1.7 ملین پاؤنڈ کے اشتہاری کریڈٹس عطیہ کیے ہیں تاکہ ذہنی صحت سے متعلق مواد زیادہ سے زیادہ نوجوانوں تک پہنچ سکے۔

سوشل میڈیا کا مثبت پہلو تیزی سے ابھر رہا ہے۔ آج کا نوجوان صرف ’سکرولنگ‘ نہیں بلکہ سیکھ رہا ہے، بہتر ہو رہا ہے اور اپنی ذات کو سنوار رہا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف والدین اور اساتذہ کے لیے خوش آئند ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی امید کی نئی کرن ہے کہ ٹیکنالوجی کا درست استعمال ہماری نئی نسل کو ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔