غزہ میں امداد نہ پہنچی تو اگلے 48 گھنٹوں میں 14 ہزار بچے جان کی بازی ہار سکتے ہیں، اقوامِ متحدہ

اہم خبریںدنیایو این خبرنامہ

اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے سربراہ ٹام فلیچر نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مکمل اور بلا تعطل امداد نہ پہنچی تو آئندہ 48 گھنٹوں میں 14 ہزار بچے زندگی کی بازی ہار سکتے ہیں۔

پانچ امدادی ٹرک غزہ میں داخل، لیکن رکے کے رکے رہ گئے

فلیچر نے بتایا کہ پیر کے روز پانچ امدادی ٹرک غزہ میں داخل تو ضرور ہوئے لیکن وہ سرحد عبور کرنے کے باوجود متاثرہ علاقوں تک نہ پہنچ سکے۔ ان ٹرکوں میں بچوں کی خوراک، غذائیت سے بھرپور اشیاء اور دیگر ضروری امدادی سامان موجود ہے۔ تاہم، ان ٹرکوں کی منزل تک رسائی نہ ہونے سے یہ امداد بے اثر ہو کر رہ گئی ہے۔

‘سمندر میں ایک قطرہ’ کے برابر امداد

اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ اہلکار کا کہنا تھا کہ موجودہ امداد اس بحران کی شدت کے مقابلے میں "سمندر میں ایک قطرے” کے برابر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک مکمل انسانی راہداری قائم نہیں کی جاتی اور امداد براہِ راست متاثرین تک نہیں پہنچتی، تب تک صورتحال دن بہ دن بدتر ہوتی جائے گی۔

14 ہزار بچوں کی زندگیاں داؤ پر

فلیچر کے مطابق غزہ میں غذائی قلت اور طبی سہولیات کی شدید کمی نے بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ اگر امدادی سامان فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں نہ پہنچا تو 48 گھنٹوں کے اندر اندر کم از کم 14 ہزار بچے جان کی بازی ہار سکتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری اور متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ سیاست سے بالاتر ہو کر فوری انسانی مداخلت کو یقینی بنائیں۔

غزہ میں بڑھتا ہوا قحط اور صحت کا بحران

غزہ اس وقت خوراک، پانی، ادویات، اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات کی شدید کمی کا شکار ہے۔ اسپتالوں میں ایندھن ختم ہو چکا ہے، اور ڈاکٹروں کے پاس نہ دوائیں ہیں اور نہ ضروری آلات۔ اقوامِ متحدہ، ریڈ کراس، اور دیگر عالمی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی اپیل

ٹام فلیچر نے عالمی طاقتوں، علاقائی حکومتوں اور امدادی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مکمل اور محفوظ انسانی راہداری کا قیام عمل میں لائیں تاکہ امدادی سامان ضرورت مندوں تک بلا تاخیر پہنچایا جا سکے۔