نیویارک اولیو آئل مقابلہ: لورالائی کے کسان نے پاکستان کا نام روشن کر دیا

پاکستانکاروبار

امریکہ کے شہر نیویارک میں ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے زیتون کے تیل کے مقابلے ‘نیویارک انٹرنیشنل اولیو آئل کمپیٹیشن’ (NYIOOC) میں بلوچستان کے ضلع لورالائی کے ایک کسان کے باغ سے حاصل کردہ تیل کو عالمی سطح پر بہترین معیار کا تسلیم کیا گیا ہے۔ دنیا بھر سے 1,200 سے زائد برانڈز کی شرکت میں ‘لورالائی اولیوز’ نے سلور ایوارڈ اپنے نام کیا۔

’لورالائی اولیوز‘ کے چیف ایگزیکٹیو شوکت رسول نے بتایا، “ہمارا خواب تھا کہ پاکستان کو زیتون پیدا کرنے والے ممالک کی صف میں جگہ ملے۔ الحمدللہ ہم نے یہ خواب پورا کر کے دکھایا اور یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان میں عالمی معیار کا زیتون کا تیل پیدا ہو رہا ہے۔”

لورالائی نے نیویارک اولیو آئل مقابلے میں سلور میڈل جیت کر پاکستان کو عالمی نقشے پر نمایاں کر دیا

پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے یہ ایک تاریخی کامیابی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے نیویارک انٹرنیشنل اولیو آئل مقابلے میں سلور میڈل حاصل کر کے لورالائی نے پاکستان کی ابھرتی ہوئی زیتون کی صنعت کو عالمی سطح پر پہچان دی۔

یہ اعزاز آربیکینا (Arbequina) قسم کے زیتون سے نکالے گئے اس تیل کو ملا جو لورالائی کے مقامی کھیتوں میں اگایا گیا تھا۔ لورالائی اولیوز کے سی ای او شوکت رسول کے بقول، “یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ پاکستان بین الاقوامی معیار کا زیتون کا تیل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔” قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ لورالائی اولیوز جنوبی ایشیا کا پہلا برانڈ ہے جسے اس عالمی مقابلے میں یہ اعزاز حاصل ہوا۔

“یہ لمحہ کئی سال کی محنت کے بعد آیا”

ایوارڈ یافتہ فارم کے مالک عبدالجبار نے بتایا کہ یہ کامیابی طویل محنت اور ثابت قدمی کا نتیجہ ہے۔ ان کے 30 ایکڑ پر مشتمل زیتون کے فارم نے گزشتہ سال 9,000 لیٹر سے زائد تیل پیدا کیا اور خاطر خواہ منافع کمایا۔ زیتون کے درخت اپنی سخت جانی کے لیے مشہور ہیں، جو بلوچستان کے خشک موسم میں کم پانی کے ساتھ بھی پھلتے پھولتے ہیں، اس لیے یہ فصل علاقے کے لیے نہایت موزوں ہے۔

بلوچستان، زیتون کی کاشت کے لیے مثالی خطہ

زرعی ماہرین کے مطابق بلوچستان کی زمین اور آب و ہوا زیتون کی کاشت کے لیے نہایت سازگار ہیں، جس کی وجہ سے یہاں تیل نکالنے کی شرح پاکستان کے دیگر علاقوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ بعض مقامات پر کسان فی 100 کلو زیتون سے 30 لیٹر تیل حاصل کر رہے ہیں، جب کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں یہ شرح تقریباً نصف ہے۔

حکومتی سرپرستی اور روشن مستقبل

پاکستان کی زیتون کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اسے حکومتی منصوبوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے، جن کے ذریعے کسانوں کو پودے، تربیت اور وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ صنعت نہ صرف اقتصادی فائدے پہنچا رہی ہے بلکہ ماحولیاتی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے، کیونکہ زیتون کے درخت فضا سے کاربن جذب کرتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور نجی شعبہ اسی طرح تعاون جاری رکھے، تو پاکستان جلد ہی دنیا کی بڑی زیتون آئل پیدا کرنے والی اقوام میں شامل ہو سکتا ہے