دل ٹوٹنے کا سنڈروم، خواتین زیادہ متاثر، لیکن مرد زیادہ جان گنواتے ہیں

سائنس ٹیکنالوجیسائنس ٹیکنالوجی

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف خواتین ہی جذباتی صدمات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں، تو یہ خبر آپ کو حیران کر سکتی ہے۔ ایک حالیہ بین الاقوامی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مرد، جذباتی صدمے کے بعد نہ صرف شدید جسمانی مسائل کا شکار ہوتے ہیں، بلکہ ان کے لیے موت کا خطرہ خواتین کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔

ماہرین اس کیفیت کو "ٹاکوٹسوبو کارڈیو مایوپیتھی” کہتے ہیں، جسے عام زبان میں "ٹوٹے دل کا سنڈروم” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جو بظاہر ہارٹ اٹیک جیسی علامات پیدا کرتی ہے جیسے سینے میں درد، سانس کی تنگی اور بے چینی۔ یہ سنڈروم کسی قریبی عزیز کی موت، شدید ذہنی دباؤ یا جسمانی تھکن کے نتیجے میں پیدا ہو سکتا ہے۔

دل کے بائیں وینٹرکل کے پٹھے اچانک کمزور ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے دل کی کارکردگی عارضی طور پر متاثر ہوتی ہے۔ اگرچہ زیادہ تر مریض جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ کیسز میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

2016 سے 2020 کے درمیان تقریباً دو لاکھ مریضوں پر کی گئی تحقیق سے پتہ چلا کہ چھ میں سے پانچ متاثرین خواتین تھیں، لیکن حیرت انگیز طور پر مردوں میں اموات کی شرح 11.2 فیصد تھی، جو خواتین کی شرح 5.5 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔

کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ماہر امراض قلب ڈاکٹر کھنڈیلوال کا کہنا ہے کہ، "ہم ہمیشہ اس بیماری کو عورتوں کے ساتھ جوڑتے رہے ہیں، لیکن شاید ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ مردوں پر اس کے اثرات کتنے شدید اور مہلک ہو سکتے ہیں۔”

یہ تحقیق اس اہم نکتے کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ مرد، جذباتی صدمات کو اکثر دباتے ہیں، جس کے جسمانی نتائج شدید تر ہو سکتے ہیں۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ مردوں کی ذہنی صحت پر بھی اتنی ہی توجہ دی جائے جتنی خواتین کی دی جاتی ہے، تاکہ ایسے سنڈرومز سے بچا جا سکے۔

یہ تحقیق نہ صرف جذباتی صدمات کی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس جانب بھی توجہ دلاتی ہے کہ مردوں کی خاموش تکلیف اکثر نظرانداز ہو جاتی ہے، جو کہ جان لیوا نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔