"ٹرمپ کی خلیجی ‘خوشامدانہ ڈپلومیسی’تحفے، تعریفیں اور ذاتی تعلقات پر مبنی نئی سفارت کاری”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ دورے نے عالمی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس دورے کو غیر روایتی، ذاتی نوعیت کی خارجہ پالیسی کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے، جسے ماہرین "خوشامدانہ ڈپلومیسی” کا نام دے رہے ہیں۔
ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے بے ساختہ کہا: "مجھے تم بہت پسند ہو” اور روانگی کے وقت دل پر ہاتھ رکھ کر جذبات کا اظہار کیا۔
ابو ظہبی میں شاہی محل کی دیواروں کے بیچ انہوں نے میزبان حکمران کو "شاندار شخصیت” قرار دیا۔خلیجی قیادت نے بھی ٹرمپ کی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ چھوڑی—آرڈر آف زاید دیا گیا
ایئر فورس ون کو جنگی طیاروں کی اسکواڈ فراہم کی گئی،اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے کیے گئے۔
قطر نے تو امریکی صدر کو 400 ملین ڈالر مالیت کا نیا صدارتی طیارہ تحفے میں دینے کی پیشکش بھی کر دی۔
نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ سب ذاتی تعلقات کے ذریعے پالیسی پر اثرانداز ہونے کی ایک کوشش ہے۔
دلچسپ موڑ تب آیا جب ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وہ شام پر عائد پابندیاں ہٹا سکتے ہیں، کیونکہ ان کے مطابق "نیا شامی صدر سخت گیر اور دلچسپ شخصیت کا حامل ہے”۔
قطر میں تعینات امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا:"خلیج ایک حیرت انگیز خطہ ہے… اور ہمارا رشتہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔”
یہ دورہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اب دوستی، تعریف اور تحفوں پر استوار ہو رہی ہے—جہاں سرکاری معاملات میں ذاتی تعلقات نمایاں کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
