سینئر قانون دان ریاض الحسن گیلانی کا چیف جسٹس سے جنوبی پنجاب میں انصاف کے لیے اصلاحات کا مطالبہ

ساؤتھ نیوز

ملتان : سینئر قانون دان اور سابق صدر ہائیکورٹ بار ملتان، سید ریاض الحسن گیلانی نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو ایک اہم خط لکھ کر جنوبی پنجاب کے وکلاء اور عوام کو درپیش ناانصافیوں کی نشاندہی کی ہے۔ اس خط نے خطے میں عدالتی نظام کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے، جس نے بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کی ہے۔

خط میں اٹھائے گئے اہم مسائل

سید ریاض الحسن گیلانی نے اپنے خط میں جنوبی پنجاب کی 4 کروڑ عوام کو درپیش درج ذیل اہم مسائل کی طرف توجہ دلائی:

  1. عدالت سے پہلے اداروں سے اپیل کا لازمی حکم: 3 دسمبر 2024 کے نوٹیفکیشن کے تحت، عدالتوں میں درخواست دائر کرنے سے پہلے متعلقہ اداروں سے داد رسی کی اپیل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس شرط نے جنوبی پنجاب کے لوگوں کو لاہور جا کر مالی اور وقتی مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ گیلانی نے اس عمل کو غیر منصفانہ اور عوام کے لیے ناقابل عمل قرار دیا۔

  2. مقامی سطح پر انصاف کی عدم دستیابی: سینئر قانون دان نے زور دیا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف میسر نہیں۔ لاہور جا کر انتظامی اپیلوں کی ضرورت نے خطے کے لوگوں میں محرومی اور نظراندازی کا احساس بڑھا دیا ہے۔

  3. ویڈیو لنک رسائی کا مطالبہ پورا نہ ہونا: انھوں  نے سپریم کورٹ تک ویڈیو لنک کے ذریعے رسائی کے دیرینہ مطالبے کو دہرایا، جو عدالتی کارروائی کو آسان بنانے کے لیے اہم ہے۔ 20 فروری 2025 کو اس سہولت کے لیے اپیل کی گئی تھی، لیکن اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، جس سے اعلیٰ عدالتوں تک رسائی مزید محدود ہو گئی ہے۔

عمل درآمد کا مطالبہ اور احتجاج کی دھمکی

اپنے خط میں،سینئر قانون دان گیلانی نے خبردار کیا کہ اگر ان مسائل کا فوری حل نہ نکالا گیا تو جنوبی پنجاب کے وکلاء اور عوام اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا، “جنوبی پنجاب کے لوگ غیر ضروری رکاوٹوں کے بغیر انصاف کے مستحق ہیں۔ اگر نظام ہمیں مسلسل ناکام بناتا رہا تو ہم پرامن طریقے سے سڑکوں پر نکلنے سے گریز نہیں کریں گے۔