بلوچستان کا خونی ٹریک 2 ہزار جانیں نگل چکا، اسے ہائی وے بنانے کا فیصلہ: وزیراعظم
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کا خونی ٹریک 2 ہزار کے قریب جانیں لے چکا ہے، اور اب اسے ہائی وے بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد میں جناح اسکوائر انڈرپاس کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں سڑکوں کے منصوبے کی مخالفت کرنے والے افراد تنگ نظر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی، قلات، خضدار اور کوئٹہ شاہراہ منصوبہ اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کی اس سڑک کو جو "خونی ٹریک” کے نام سے معروف ہے، ہائی وے میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس کی معیار موٹر وے جیسا ہوگا اور اسے 2 سال میں 300 ارب روپے سے زائد کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو ایک ایسا منصوبہ چاہیے تھا جو تمام اقوام کے دل کی آواز بنے، اور این ایف سی میں بھی بلوچستان کا کوٹہ دگنا کر دیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ حکومت اور مسلح افواج کا وژن تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ ان کی ٹیم ورک کے نتیجے میں ملکی معیشت مستحکم ہو گئی ہے اور اب پاکستان ترقی و خوشحالی کے سفر پر گامزن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عالمی سطح پر درجہ بندی میں بھی بہتری آئی ہے۔
وزیراعظم نے اسلام آباد میں جاری توسیعی اور تزئینی منصوبوں کی بھی تعریف کی، اور کہا کہ ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے محسن نقوی کو بہترین اقدامات کے لیے مبارکباد دی۔
یہ بھی یاد رہے کہ وزیراعظم نے پچھلے دنوں کہا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے فائدے کو عوام تک پہنچانے کے بجائے بلوچستان پر خرچ کیا جائے گا، اور اس رقم سے بلوچستان کی اہم شاہراہ N-25 کو دو رویہ بنایا جائے گا۔
