میٹا کا نیا اے آئی ماڈل لاما 4 ریلیز کرنے کی تیاری

سائنس ٹیکنالوجیسائنس ٹیکنالوجی

سوشل میڈیا دیو میٹا رواں ماہ کے آخر میں اپنا جدید ترین مصنوعی ذہانت ماڈل، لاما 4 ریلیز کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے، تاہم ذرائع کے مطابق اس کی ریلیز میں تاخیر کا امکان بھی موجود ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، میٹا اے آئی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لیے جارحانہ حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ کمپنی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ لاما 4 کی ریلیز کی تاخیر کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ماڈل ریاضی کے پیچیدہ مسائل حل کرنے میں تکنیکی توقعات پر پورا نہیں اترا۔

علاوہ ازیں، میٹا کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ لاما 4 کی انسانوں جیسی آواز اور بات چیت کی صلاحیتیں اوپن اے آئی کے ماڈلز کے مقابلے میں کمزور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنی اب تک مکمل اعتماد کے ساتھ اسے جاری نہیں کر سکی۔

واضح رہے کہ اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کی شاندار کامیابی کے بعد، ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں مصنوعی ذہانت میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ میٹا بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں، اور کمپنی نے 2025 کے دوران 65 بلین ڈالر اے آئی انفراسٹرکچر کی وسعت کے لیے مختص کیے ہیں۔

دوسری جانب، چینی ٹیک فرم "ڈیپ سیک” کے کم لاگت والے اے آئی ماڈل کی کامیابی نے یہ تصور چیلنج کر دیا ہے کہ صرف اربوں ڈالر خرچ کر کے ہی بہترین ماڈل بنایا جا سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق میٹا کا لاما 4 کچھ تکنیکی فیچرز ڈیپ سیک سے ادھار لے سکتا ہے، اور کم از کم ایک ورژن مشین لرننگ کی ایسی تکنیک استعمال کرے گا جو کم وسائل میں زیادہ صلاحیت فراہم کرے گی۔

کمپنی یہ بھی غور کر رہی ہے کہ لاما 4 کو پہلے "میٹا اے آئی” کے ذریعے محدود سطح پر ریلیز کیا جائے اور پھر بعد ازاں اسے اوپن سورس سافٹ ویئر کے طور پر عوام کے لیے پیش کر دیا جائے۔

یاد رہے، پچھلے سال میٹا نے لاما 3 کو مفت میں جاری کیا تھا جو 8 زبانوں میں بات چیت کرنے، اعلیٰ معیار کا کوڈ لکھنے اور ریاضی کے پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا میٹا اپنے نئے ماڈل لاما 4 کے ذریعے اے آئی کی اس دوڑ میں سبقت حاصل کر پاتی ہے یا چینی ماڈلز کے چیلنج کا سامنا اسے نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دے گا۔