نکاح نامے میں اصلاحات پر مبنی فلم ’بول اُٹھو‘ کی خصوصی اسکریننگ
نکاح نامے سے متعلق اصلاحات کو اجاگر کرنے والی شارٹ فلم ’بول اُٹھو‘ کی خصوصی اسکریننگ پشاور پریس کلب میں منعقد کی گئی۔ تقریب میں سابق صوبائی محتسب رخشندہ ناز، وکلا، طلبا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
فلم میں خیبرپختونخوا میں نکاح کے عمل سے جڑے متعدد سماجی و قانونی مسائل کو موضوع بنایا گیا، جن میں غیر رجسٹرڈ اور غیر مستند نکاح خواں کا مسئلہ خاص طور پر نمایاں رہا۔ اس حوالے سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ صوبے بھر میں یکساں نکاح نامہ متعارف کرایا جائے تاکہ عوام کو قانونی پیچیدگیوں سے بچایا جا سکے۔
’بول اُٹھو‘ میں نکاح سے پہلے ایچ آئی وی اور تھیلیسیمیا جیسے اہم طبی ٹیسٹ لازمی قرار دینے، نکاح خواں کی باقاعدہ تربیت کو ضروری بنانے اور خواتین کو نکاح نامہ پڑھنے، سمجھنے اور خود بھرنے کا حق دینے پر زور دیا گیا ہے۔
نکاح نامہ تحریک کے تحت تیار کی گئی اس فلم کا مقصد نکاح کے عمل کو زیادہ باخبر، بااختیار اور محفوظ بنانا ہے، خاص طور پر خواتین میں قانونی شعور اجاگر کرنا اس کا مرکزی ہدف ہے۔
شرکاء نے فلم کو ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ یہ کوشش معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
