امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ‘کافر’ ٹیٹو پر تنازعہ: اسلاموفوبیا کے الزامات کا سامنا
واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے دائیں بازو پر عربی لفظ ‘کافر’ کے ٹیٹو نے ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ حال ہی میں ریاست ہوائی میں واقع جوائنٹ بیس پرل ہاربر-ہکَم کے دورے کے دوران، ہیگستھ نے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر ایک تصویر شیئر کی، جس میں ان کے بازو پر یہ ٹیٹو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
اس تصویر کے منظر عام پر آنے کے بعد، ہیگستھ پر اسلاموفوبیا کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ‘کونسل آن امریکن-اسلامک ریلیشنز’ (CAIR) نے اس ٹیٹو کو مسلم دشمنی کی علامت قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق، عربی لفظ ‘کافر’ کا مطلب ہے وہ شخص جو الٰہی سچائیوں کا انکار کرتا ہے، اور اس کا ٹیٹو بنوانا مسلم دشمنی اور ذاتی عدم تحفظ کی نشانی ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایک فلسطینی صارف، نیردین کسوانی، نے لکھا: "ہیگستھ کا ‘کافر’ ٹیٹو ایک صلیبی نعرہ ہے اور یہ صرف ایک ذاتی انتخاب نہیں، بلکہ امریکی جنگوں کی نگرانی کرنے والے شخص کی جانب سے اسلاموفوبیا کی واضح علامت ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے فلسطین کے حق میں احتجاج کرنے والے 300 غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پیٹ ہیگستھ تنازعات کی زد میں آئے ہوں۔ اس سے قبل ان پر جنسی بدسلوکی، شراب نوشی، اور سابقہ شادیوں میں بے وفائی کے الزامات بھی لگ چکے ہیں، جنہیں انہوں نے سختی سے مسترد کیا ہے۔ ان الزامات کے باوجود، نائب صدر جے ڈی وینس کے ٹائی بریکنگ ووٹ کے ذریعے، سینیٹ نے 50-50 کی برابری ختم کرتے ہوئے ہیگستھ کی بطور وزیر دفاع تعیناتی کی توثیق کی تھی۔
ہیگستھ کی نامزدگی کے دوران ان کی تجربے کی کمی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ 44 سالہ سابق فاکس نیوز میزبان اور جنگی تجربہ کار، ہیگستھ کی پینٹاگون کی قیادت کے لیے نامزدگی ڈیموکریٹس کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنی تھی، جنہوں نے عالمی سطح پر ان کے تجربے کی کمی کی نشاندہی کی تھی۔
اس حالیہ تنازعے کے بعد، امریکی محکمہ دفاع یا پیٹ ہیگستھ کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
