وکی کوشل کی فلم ‘چھاوا’ پر تشدد حالات کا سبب؟ مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ کا دعویٰ
بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے علاقے ناگپور میں مغل بادشاہ اورنگزیب کے مقبرے کو ہٹانے کے بیان کے بعد پرتشدد ہنگامے پھوٹ پڑے، جن کا تعلق اداکار وکی کوشل کی فلم ‘چھاوا’ سے جوڑا جا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے ریاستی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ ناگپور میں پیر کے روز ہونے والے تشدد کی جڑیں وکی کوشل کی فلم میں پوشیدہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ فلم لوگوں میں اورنگزیب کے خلاف غصہ پیدا کرنے کا باعث بنی، جس کے بعد فسادات بھڑک اٹھے۔
فڈنویس نے مزید کہا کہ یہ واقعات اچانک نہیں ہوئے بلکہ ان کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ ان کے مطابق مخصوص گھروں اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا، جو کہ ایک سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
بی جے پی رہنما نے فلم ‘چھاوا’ کو مہاراشٹرا میں ہونے والی بدامنی کا ایک عنصر قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ ریاست میں امن قائم رکھیں۔
پولیس کے مطابق ناگپور میں پیر کے روز ہونے والے تشدد کے دوران متعدد گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں اور کئی افراد زخمی ہوئے، جن میں کم از کم 15 پولیس اہلکار شامل ہیں۔ ایک اہلکار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ فلم ‘چھاوا’ چھترپتی سنبھاجی کی زندگی پر مبنی ایک بائیوپک ہے، جس کی ریلیز سے قبل ہی یہ تنازعات کی زد میں آچکی تھی۔
