پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،صدر زرداری کا خطاب شروع ہوتے ہی اپوزیشن کا احتجاج ،شور شرابہ
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے آغاز پر ہی اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، جس سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت اجلاس کا آغاز قومی ترانے، تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ تاہم، جیسے ہی اسپیکر نے صدر آصف علی زرداری کو خطاب کی دعوت دی، اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی اور شور شرابہ شروع کر دیا۔
اس مشترکہ اجلاس کا دو نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا تھا، جس میں صدر آصف علی زرداری کا اتحادی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر خطاب شامل تھا۔ صدر کے خطاب کے بعد اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا منصوبہ تھا۔ اپوزیشن کی جانب سے صدر کے خطاب کے دوران احتجاج کی پیشگی اطلاعات تھیں، اور حکومت نے اس ممکنہ احتجاج کو ناکام بنانے کی حکمت عملی بھی تیار کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کی نذر، 10 منٹ میں 4 بل منظور کرلئے گئے
صدر مملکت کی آمد پر وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا، اور خطاب سے قبل اسپیکر چیمبر میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات بھی طے تھی۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، اور بغیر پاس کے داخلہ ممنوع قرار دیا گیا تھا۔
اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود، صدر آصف علی زرداری نے اپنا خطاب جاری رکھا، جس میں انہوں نے حکومتی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا۔ تاہم، اپوزیشن کے شور شرابے کے باعث ایوان کی کارروائی متاثر رہی۔
