پیکا ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش: فیک نیوز پر 5 سال تک سزا تجویز
وفاقی حکومت نے پیکا (پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) میں ترامیم کا بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا، جس میں فیک نیوز اور سوشل میڈیا سے متعلق اہم تبدیلیاں شامل ہیں۔
اہم نکات:
- وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ بل پیش کیا۔
- بل کے مطابق فیک نیوز پر 5 سال تک سزا اور دیگر جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔
- ٹرائل کورٹ کو مقدمات کا فیصلہ 6 ماہ سے ایک سال کے اندر کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔
- ماڈرن ڈیوائسز کو قانون شہادت کا حصہ بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
وزیر قانون کا مؤقف:
اعظم نذیر تارڑ نے کہا:
"ہمارے نظام انصاف میں خرابیاں ہیں، جس کی وجہ سے مجرموں کو سزا دینے کی شرح بہت کم ہے۔ ترامیم سے ان مسائل کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:
- دیگر ممالک میں سزا دینے کی شرح 80 فیصد ہے، جبکہ ہمارے یہاں یہ بہت کم ہے۔
- عوام کو انصاف کی فراہمی میں دشواریاں درپیش ہیں، اور نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی اجلاس کورم کی نذر، اپوزیشن کا شدید احتجاج اور “اووووو” کے نعرے
اپوزیشن پر تنقید:
اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ:
"اپوزیشن کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ صرف کورم کی نشاندہی اور لابی میں کھانے تک محدود ہیں۔”
فیک نیوز کے خلاف سخت اقدامات:
ذرائع کے مطابق:
- فیک نیوز کے خلاف سخت قانون سازی کی جا رہی ہے۔
- سزا کی مدت اور جرمانے کا تعین شامل ہے۔
- یہ بل عوام میں بڑھتی ہوئی غلط معلومات اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
