کرم کیلئے امدادی اشیاء لے جانے والا گاڑیوں پر مشتمل قافلہ روانہ

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

ضلع کرم کے علاقے بگن کے لیے امدادی قافلہ ٹل سے روانہ ہو گیا ہے تاکہ متاثرین کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔

ایف ڈی ایم اے کے حکام کے مطابق 10 گاڑیاں امدادی سامان لے کر روانہ ہو چکی ہیں، جس میں ٹینٹ، گرم کمبل، کچن سیٹ اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔ امدادی قافلے کی فضائی نگرانی ہیلی کاپٹر کے ذریعے کی جارہی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔

اسی دوران، پاراچنار کے لیے اشیائے خورونوش کا ایک قافلہ بھی آج روانہ ہونے کا امکان ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق قافلے کی حفاظت پولیس کے ذمہ ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی پولیس کی معاونت کریں گے۔ امن کمیٹی نے حکومت کو اس بات کی ضمانت دی ہے کہ قافلے کو بحفاظت گزرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی، اور بگن کے متاثرین کو بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت ان کے نقصانات کا ازالہ کرے گی۔

مزید برآں، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر پر حملے کے ملزمان کو جلد انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا اور آئندہ ایک ہفتے میں مزید امدادی قافلے کرم بھیجے جائیں گے۔

دوسری جانب، ضلع کرم کی واحد مین سڑک جو دیگر اضلاع سے اس علاقے کو جوڑتی ہے، مسلسل 94 دنوں سے ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند ہے، جس سے علاقے کی معاشی اور سماجی صورتحال پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔

سول سوسائٹی پاراچنار نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ادویات اور معیاری علاج کی کمی کی وجہ سے اب تک 147 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان حالات میں عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ فوری امدادی اقدامات کیے جائیں۔

پھر بھی، ضلع کرم میں دفعہ 144 کی کھلی خلاف ورزی جاری ہے، اور جلسے جلوسوں کا سلسلہ بھی نہ تھم سکا ہے، جو علاقے میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔